وزیراعلیٰ نے شہریوں سے بسنت حفاظت کے ساتھ منانے کی اپیل کی ہے، مریم اورنگزیب
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
— فائل فوٹو
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ نے شہریوں سے بسنت کو ذمہ داری اور حفاظت کے ساتھ منانے کی اپیل کی ہے۔
اپنے ایک بیان میں مریم اورنگزیب نے کہا کہ لاہور میں 6، 7 اور 8 فروری کو تمام شہریوں کے لیے مفت ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے گی، بسنت کے موقع پر میٹرو بس، اورنج لائن اور رکشا سروس تینوں دن بلا معاوضہ دستیاب ہوگی۔
مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ لاہور میں ہوا کی رفتار کم ہونے کے باوجود ایئر کوالٹی انڈیکس 178 ریکارڈ کیا گیا، عوام سڑکوں پر گاڑیوں کا دباؤ نہ ڈالیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ٹریفک دباؤ اور فضائی آلودگی میں کمی کے لیے شہری مفت پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں۔ بھٹوں، فیکٹریوں اور گاڑیوں سے دھوئیں کے اخراج پر بلا امتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مریم اورنگزیب
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔