ایرانی مسلح افواج کا نظریہ جنگ دفاعی سے جارحانہ انداز میں تبدیل کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران امام خامنہ ای کی دانشمندانہ قیادت میں دشمنوں کے مقابلے میں غافل نہیں رہے گا اور مسلح افواج پوری تیاری کے ساتھ ملک کے دفاع میں اپنا فرض ادا کرے گی۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف جنرل موسوی نے 12 روزہ مسلط کردہ جنگ کے بعد ہونے والی تزویراتی پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان پیش رفتوں اور امریکہ اور صیہونی حکومت کے دشمنانہ اقدامات کے تسلسل کے بعد، ملک کے دفاعی نظریے پر نظر ثانی کی گئی ہے اور مسلح افواج کا نقطہ نظر ایک جارحانہ، تیز رفتار اور وسیع آپریشنز پر مبنی اصولوں میں بدل گیا ہے۔ مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل سید عبدالرحیم موسوی نے امریکہ کے جارحانہ رویے کے خلاف ایرانی قوم کی مزاحمت کا حوالہ دیا اور کہا کہ ایرانی قوم نے ظلم و ستم کے مقابلے میں ڈٹ کر دشمن کو پے در پے اور متعدد دہشت گردانہ جنگوں سمیت متعدد دہشت گردانہ حملوں کے دوران شکست پر مجبور کیا ہے۔
انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران ایرانی قوم نے بارہا دشمنوں کا مقابلہ کرنے میں اپنی صلاحیتوں کو ثابت کیا ہے، مزید کہا کہ دفاع مقدس کے تجربے نے ثابت کیا کہ ایرانی عوام مشکل ترین حالات میں بھی دشمن کے خلاف وسیع محاذ پر ڈٹ گئے اور غیروں کی مرضی کو مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی۔ مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف نے حالیہ برسوں کی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 12 روزہ جنگ میں امریکہ اور صیہونی حکومت کے طویل المدتی منصوبے ناکام ہوئے اور حالیہ واقعات میں دشمن کے بنائے گئے منصوبے بھی ناکام ہوئے، یہ حقائق بتاتے ہیں کہ کمزور ایران کا بیان میڈیا کے دھوکے سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔
میجر جنرل موسوی نے مسلح افواج کی تیاری کے اعلیٰ سطح پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ دشمنوں بالخصوص امریکہ کو جو کچھ معلوم ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ ملک کے دفاع کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کا حوصلہ آج اپنی بلند ترین سطح پر ہے اور کوئی بھی غلط اندازہ ان کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے مسلط کردہ 12 روزہ جنگ کے بعد ہونے والی تزویراتی پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان پیش رفتوں اور امریکہ اور صیہونی حکومت کے دشمنانہ اقدامات کے تسلسل کے بعد ملک کے دفاعی نظریے میں تبدیلی آئی ہے اور مسلح افواج کا نقطہ نظر ایک جارحانہ نظریہ کی طرف تبدیل ہو گیا ہے جس کی بنیاد تیز رفتار، فیصلہ کن اور وسیع تر آپریشن پر مبنی ہے، اس طرح کہ دشمن کے حساب سے آزادانہ فیصلے کیے جائیں گے۔
مسلح افواج کے سربراہ نے ایران کے گھیراؤ کے امکان کے بارے میں بعض دعووں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے جغرافیائی محل وقوع اور جیوپولییٹکل اہمیت کے پیش نظر ایک غیر ذمہ دار ملک ہے اور اس طرح کے دعوے کرنا خطے کے حقائق سے ناواقفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ میجر جنرل موسوی نے آخر میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک مستعد قوم اور قابل مسلح افواج پر بھروسہ کرنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران امام خامنہ ای کی دانشمندانہ قیادت میں دشمنوں کے مقابلے میں غافل نہیں رہے گا اور مسلح افواج پوری تیاری کے ساتھ ملک کے دفاع میں اپنا فرض ادا کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلامی جمہوریہ ایران کرتے ہوئے کہا کہ اور مسلح افواج مسلح افواج کا مسلح افواج کے کرتے ہوئے کہ ملک کے دفاع موسوی نے کے بعد ہے اور
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔