اسٹریٹیجک اعتبار سے انتہائی اہم جزیرہ نما ہاتھ سے جانے دینے کو امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے برطانیہ کی “بڑی حماقت” قرار دیے جانے کے بعد اس کے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

برطانیہ کے وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے چاگوس آئی لینڈز کو ماریشس کے حوالے کرنے سے متعلق معاہدہ فی الحال روک دیا ہے۔

لیبر حکومت نے دارالامرا میں اس معاملے پر بحث مؤخر کرتے ہوئے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر یہ ڈیل مکمل طور پر ختم کی گئی تو یہ سر کیئر اسٹارمر کے دورِ حکومت کا پندرھواں یوٹرن ہوگا۔

چاگوس آئی لینڈز بحرِ ہند کے وسط میں واقع ایک اسٹریٹیجک جزیرہ نما ہے، جو ماریشس سے تقریباً 1,600 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے، جبکہ ماریشس ان جزائر کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔

پیرس معاہدے کے تحت برطانیہ نے 1814 میں ماریشس سمیت ان جزائر کا کنٹرول سنبھالا تھا۔ بعد ازاں 1965 میں سرد جنگ کے دوران امریکا اور برطانیہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت چاگوس آئی لینڈز کو ماریشس سے الگ کر دیا گیا۔

ان جزائر پر قبضے کے بعد انہیں “برٹش انڈین اوشن ٹیریٹری” کا نام دیا گیا، جبکہ مقامی آبادی کو مرحلہ وار بے دخل کر کے ماریشس منتقل کر دیا گیا۔

یہ تمام اقدامات اس کے باوجود کیے گئے کہ ماریشس نے 1968 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کر لی تھی، تاہم برطانیہ نے چاگوس آئی لینڈز سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔

1971 میں امریکا اور برطانیہ نے سوویت یونین کے خلاف حکمتِ عملی کے تحت ان جزائر کے علاقے ڈیگو گارشیا میں فوجی اڈہ قائم کیا، جو بعد ازاں عراق پر حملوں کے لیے بھی استعمال ہوتا رہا۔

ماریشس طویل عرصے سے ان جزائر کی واپسی کے لیے کوشاں ہے، جبکہ عالمی عدالت انصاف بھی برطانیہ سے مطالبہ کر چکی ہے کہ وہ چاگوس آئی لینڈز جلد از جلد ماریشس کو واپس کرے۔

مئی 2025 میں برطانیہ اور ماریشس کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت امریکا اور برطانیہ کو صرف ڈیگو گارشیا تک رسائی حاصل رہنا تھی، جبکہ باقی تمام جزائر ماریشس کے حوالے کیے جانے تھے۔

اس معاہدے کے مطابق ڈیگو گارشیا میں موجود فوجی اڈے تک 99 برس کے لیے رسائی کی لیز دی جانی تھی، جس کے عوض برطانیہ کو سالانہ 136 ملین ڈالر ماریشس کو ادا کرنا تھے۔

گزشتہ چند برسوں تک برطانیہ میں لیبر اور کنزرویٹو دونوں جماعتیں چاگوس آئی لینڈز کی واپسی کو ایک اخلاقی ذمہ داری تصور کرتی رہی ہیں۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں اس معاہدے کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا تھا، تاہم اب انہوں نے اس حوالے سے اپنا مؤقف تبدیل کر لیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل معاہدے کے کے تحت

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل