قازقستان، ازبکستان کے صدور کے دورے تجارت و سرمایہ کاری کی نئی راہیں کھولیں گے: آئی سی سی آئی صدر WhatsAppFacebookTwitter 0 2 February, 2026 سب نیوز

مشترکہ منصوبوں اور طویل المدتی شراکت داریوں کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی

اسلام آباد: (سب نیوز) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے قازقستان اور ازبکستان کے صدور کے دوروں کو انتہائی اہم اور بروقت قرار دیتے ہوئے علاقائی ممالک کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی اور تجارتی روابط کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 3 فروری کو قازقستان کے صدر اور 5 فروری کو ازبکستان کے صدر کی آمد علاقائی تعاون، اقتصادی انضمام اور پائیدار ترقی کے لیے بڑھتے ہوئے باہمی اعتماد اور مشترکہ عزم کے عکاس ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اعلیٰ سطحی مصروفیات دو طرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور عوام کے درمیان رابطوں کو بڑھانے کے لیے نئی راہیں کھولیں گی۔۔
سردار طاہر محمود نے کہا کہ وسطی ایشیائی ریاستیں تجارت، توانائی، زراعت، کان کنی، لاجسٹکس اور سیاحت جیسے شعبوں میں پاکستان کے لیے بے پناہ امکانات رکھتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ دورے ریلوے اور ٹرانزٹ کوریڈور سمیت سستے تجارتی راستوں کو فعال بنانے اور علاقائی تجارت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
آئی سی سی آئی کے صدر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اسلام آباد، وفاقی دارالحکومت اور کاروباری مرکز کے طور پر، پاکستان کے نجی شعبے اور علاقائی مارکیٹوں کے درمیان ایک پل کے طور پر کام کرنے کے لیے اچھی پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان دوروں کے دوران طے شدہ بزنس فورمز اور B2B بات چیت سے پاکستانی تاجروں کو مشترکہ منصوبوں اور طویل المدتی شراکت داریوں کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔
سینئر نائب صدر طاہر ایوب اور نائب صدر عرفان چوہدری نے ICCI کی طرف سے حکومتی کوششوں کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا جن کا مقصد علاقائی تعاون کو بڑھانا اور کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان صدارتی دوروں کے نتائج عملی معاہدوں، بہتر مارکیٹ تک رسائی اور مضبوط ادارہ جاتی روابط میں تبدیل ہوں گے، جو بالآخر پورے خطے میں اقتصادی ترقی اور خوشحالی میں معاون ثابت ہوں گے۔
انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ قازقستان اور ازبکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات سے نہ صرف پاکستان کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا بلکہ علاقائی استحکام، روابط اور مشترکہ پیش رفت کو بھی فروغ ملے گا، جو علاقائی انضمام کے وسیع تر وژن کے مطابق ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرتھائی سفارت خانے میں ملکہ سریکیت کی 100 ویں برسی پر دعا اور مدح سرائی پاکستان میں سونا سستا، آج بھی ہزاروں روپے کی بڑی کمی ہوگئی آئی سی سی آئی قیادت کا وزیر اعظم کی صنعتی اور برآمدی مراعات کا خیر مقدم سونے کی قیمتوں میں آج بھی بہت بڑی کمی، عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سستا ہوگیا رمضان نگہبان پیکج کے تحت خصوصی بازاروں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں مقرر سونا سستا ہوگیا؛ عالمی اور مقامی قیمتوں میں تاریخ کی سب سے بڑی کمی ریکارڈ پاکستان اور روانڈا کے درمیان تجارتی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ازبکستان کے

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان