وفاقی وزیر مواصلات علیم خان نے سینیٹر پلوشہ خان سے معافی مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
وفاقی وزیر مواصلات علیم خان نے سینیٹر پلوشہ خان سے معافی مانگ لی WhatsAppFacebookTwitter 0 2 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد: وفاقی وزیر مواصلات علیم خان نے ایک کمیٹی اجلاس کے دوران پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے پر سینیٹر پلوشہ خان سے معذرت کی ہے۔
علیم خان نے کہا کہ وہ چوبیس سال سے سیاست میں یہ کوشش کرتے آئے ہیں کہ ہر شخص کے ساتھ محبت اور احترام کا رشتہ قائم رکھیں۔ انہوں نے کمیٹی کے چئیرمین پرویز رشید اور دیگر اراکین سے بھی اس واقعے پر معذرت کی۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ یہ معذرت خلوص نیت کے ساتھ پیش کی گئی ہے اور وہ اس طرح کے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو مستقبل میں دوہرانے سے گریز کریں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربلوچستان حملے: چین کا پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان بلوچستان حملے: چین کا پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان تھائی سفارت خانے میں ملکہ سریکیت کی 100 ویں برسی پر دعا اور مدح سرائی بارسلونا: اوورسیز پاکستانیوں کو سہولت دینے کے لیے قونصلیٹ کے غیر معمولی اقدامات، ہفتہ وار تعطیلات ختم، طویل اوقات میں خدمات جاری — چوہدری... حکومت کا ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان “سب ختم ہو گیا” کا بیانیہ دم توڑ گیا؛ لیپ ٹاپ محض مشین نہیں ریاست کا نوجوانوں کے خوابوں پر اعتماد ہے: سیدہ آمنہ... سی ڈی اے میں تقرری و تبادلے، کامران بخت کو ڈی جی ایچ آر کا چارج مل گیا،، تفصیلات و دستاویز سب نیوز پر
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: علیم خان نے وفاقی وزیر
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔