بجٹ اجلاس میں ڈوکلام اور چینی دراندازی پر راہل گاندھی کے بیان پر شدید ہنگامہ، کارروائی ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
پارلیمنٹ میں جاری ہنگامہ آرائی کے دوران قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ایک بار پھر اپنا خطاب شروع کیا، جس پر حکمراں جماعت کے اراکین نے دوبارہ سخت اعتراض کیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی پارلیمنٹ میں ڈوکلام اور چینی دراندازی سے متعلق راہل گاندھی کے بیان پر زبردست ہنگامہ دیکھنے میں آیا، جس کے باعث ایوان کی کارروائی متاثر رہی۔ وقفے کے بعد جب لوک سبھا کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو اسپیکر کی کرسی پر جگدمبیکا پال موجود تھے، تاہم اپوزیشن اور حکمراں جماعت کے ارکان کے درمیان شور شرابہ بدستور جاری رہا۔ ایوان میں مسلسل ہنگامہ آرائی کے سبب کارروائی کو معمول کے مطابق چلانا ممکن نہ ہو سکا، جس کے بعد لوک سبھا کی کارروائی کل تک کے لئے ملتوی کر دی گئی۔
لوک سبھا میں جاری ہنگامہ آرائی کے دوران قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ایک بار پھر اپنا خطاب شروع کیا، جس پر حکمراں جماعت کے اراکین نے دوبارہ سخت اعتراض کیا۔ راہل گاندھی کے بولتے ہی ایوان کا ماحول ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہو گیا اور حزبِ اقتدار کی جانب سے شور شرابہ شروع ہو گیا۔ اس دوران وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اور راہل گاندھی کے خطاب پر باضابطہ اعتراض ظاہر کیا۔ دونوں وزراء نے کہا کہ قواعد کے تحت اس طرح کی باتوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور ایوان کی کارروائی کو قواعد کے مطابق چلایا جانا چاہیئے۔
اعتراضات اور شور کے باعث لوک سبھا کی کارروائی ایک بار پھر متاثر ہوئی، جبکہ اسپیکر کی جانب سے اراکین کو نظم و ضبط برقرار رکھنے اور قواعد کی پابندی کی ہدایت دی گئی۔ اسپیکر نے جب یہ کہا کہ قائد حزب اختلاف کو صرف اسی موضوع پر بولنا چاہیئے جو صدر کے خطاب کا حصہ تھا۔ اس پر راہل گاندھی نے کہا کہ وہ قومی سلامتی پر بیان دینا چاہتے ہیں، جوکہ صدر کے خطاب کا حصہ تھی۔ شدید ہنگامہ آرائی کے درمیان کارروائی کو ایک مرتبہ پھر شام 4 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہنگامہ آرائی کے راہل گاندھی کے کی کارروائی لوک سبھا
پڑھیں:
سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
(ویب ڈیسک)چترال، سوات، دیر، شانگلہ، بونیر اور ملاکنڈ کے نواحی علاقوں میں 5.3 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی لوگ گھروں سے نکل آئے۔
ریکٹر اسکیل پر زلزلے کے شدت 5.3 ریکارڈ کی گئی جس کی زیر زمین گہرائی 191 کلو میٹر تھی۔
زلزلے کا مرکز افغانستان کوہ ہندوکش پہاڑی سلسلہ تھا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل