ملتان، انقلاب اسلامی ایران کی سالگرہ کی مناسبت سے خانہ فرہنگ اسلامی جمہوری ایران میں تقریب
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
مقررین نے خطاب کرتے ہوئے انقلاب اسلامی سے وابستہ اپنی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ انقلاب خالصتا اسلامی تھا یہی وجہ ہے دنیا کے حالات کے تغیر و تبدل کے باوجود انقلاب اپنی تازگی کے ساتھ باقی ہے، رہنمائوں نے کہا کہ آج دنیا میں مزاحمت استعارہ ایران ہے جس نے نام نہاد سپر پاور کو شکست سے دوچار کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ خانہ فرہنگ اسلامی جمہوری ایران ملتان میں انقلاب اسلامی ایران کی سالگرہ کی مناسبت سے سادہ مگر پُروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا، تقریب ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کی صدر بشریٰ نقوی، جنرل سیکرٹری ملک سعادت حسین، مولانا سید مجاہد عباس گردیزی، عبدالماجد وٹو، مولانا عبدالحنان حیدری، سلیم عباس صدیقی، انجینئر سخاوت علی سیال، انچارج خانہ فرہنگ ملتان خانم زاہدہ بخاری نے خطاب کیا۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے انقلاب اسلامی سے وابستہ اپنی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ انقلاب خالصتا اسلامی تھا یہی وجہ ہے دنیا کے حالات کے تغیر و تبدل کے باوجود انقلاب اپنی تازگی کے ساتھ باقی ہے، رہنمائوں نے کہا کہ آج دنیا میں مزاحمت استعارہ ایران ہے جس نے نام نہاد سپر پاور کو شکست سے دوچار کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انقلاب اسلامی کرتے ہوئے کہا کہ
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔