سینیٹ کمیٹی ارکان چیئرمین ایف بی آر کی کارکردگی پر برہم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے امریکا برآمدات، بارٹر ٹرید اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کارکردگی پر سخت سوالات پوچھ لیے۔
اسلام آباد میں چیئرپرسن سینیٹر انورشہ رحمان کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں وزارت تجارت، ٹی ڈیپ اور ایف بی آر کی کارکردگی پر ارکان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
کمیٹی ارکان ایران کے ساتھ بارٹر ٹریڈ پر وی بک ماڈیول جاری نہ کیے جانے پر چیئرمین ایف بی آر پر برہم ہوگئے۔
حکام وزارت تجارت نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ بارٹر ٹریڈ کیلئے ایس آر او اکتوبر میں جاری کردیا تھا، وی بک کیلئے ماڈیول ابھی تک ایف بی آر نے تیار نہیں کیا۔
اس پر کمیٹی رکن سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ یہ بہت بڑی نااہلی ہے، ایف بی آر سے پوچھا جائے، انہیں طلب کرکے کہا جائے کہ معاملہ حل کریں۔
سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے کہا کہ ایف بی آر تو ہمارے لیے طالبان بن گیا ہے، اس پرسینیٹر طلحہ محمودنے کہا کہ ایف بی آر طالبان نہیں تاتاری لشکر کی طرح ہے، جہاں جاتا ہے تباہی پھیر دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایف بی آر میں چنگیز خاں کو کلہاڑا دے کر بیٹھایا گیا ہے، سنا ہے جب چیئرمین ایف بی آر کو بتایا جاتا ہے کہ فلاں شعبہ ٹیکس کے باعث مشکل میں ہے تو وہ خوش ہوتے ہیں۔
سینیٹر طلحہ محمود کے سوال پر حکام نے بتایا کہ بہتر ٹیرف کے باوجود امریکا کو برآمدات نہ بڑھنے کی بڑی وجہ پاکستان میں زیادہ پیداواری لاگت ہے۔
وزیر تجارت جام کمال کے مطابق چین اور بھارت پر زیادہ ٹیرف سے مواقع تو ملے، مگر طویل المدتی سرمایہ کاری نہ ہونے اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث فائدہ نہ اٹھایا جا سکا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جولائی تا دسمبر امریکا کو ٹیکسٹائل برآمدات میں صرف 4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اس کا زیادہ فائدہ ویتنام، بنگلادیش اور کمبوڈیا نے لیا۔
حکام نے بتایا کہ پاکستان جی ایس پی پلس کے تحت یورپی یونین کو تقریباً 7 ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل برآمد کرتا ہے جبکہ بھارت بغیر رعایت کے بھی اتنی ہی برآمدات کر رہا ہے۔
اجلا س میں خواتین کاروباری وفد کے انتخاب میں شفافیت، چترال کی مصنوعات کے فروغ اور بلند ٹیکس ریٹس پر بھی سوالات اٹھائے گئے، اس موقع پر برآمدی لاگت کم کرنے اور پالیسی اصلاحات پر زور دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ایف بی ا ر برا مدات کہا کہ
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔