سینیٹ اجلاس، علیم خان کی پلوشہ خان سے معذرت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
وفاقی وزیر مواصلات و نجکاری علیم خان نے پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان سے سینیٹ اجلاس میں معذرت کرلی۔
سینیٹ اجلاس سے خطاب میں علیم خان نے کہا کہ قائمہ کمیٹی اجلاس میں ایک واقعہ ہوا، 24 سال سے سیاست میں کوشش کی ہر کولیگ سے احترام کا رشتہ رکھوں۔
انہوں نے کہا کہ کبھی ایسے لمحات آ جاتے ہیں، میں محترمہ سینیٹر پلوشہ خان، سینیٹر پرویز رشید اور دیگر ارکان سے دلی طور پر معذرت خواہ ہوں۔
اس پر پلوشہ خان نے کہا کہ ہم سب کی عزت برابر ہے، پرامید ہوں کہ آئندہ سب ممران کی عزت و احترام کی جائے گی، آئندہ کمیٹی اجلاس میں یہ ماحول نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ 19 دسمبر کو پیش آنے والا واقعہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات میں وفاقی وزیر علیم خان اور پلوشہ خان میں تلخ کلامی ہوئی تھی۔
عبدالعلیم خان نے پلوشہ خان کو شٹ اپ کہا تھا تو جواب میں پلوشہ نے انہیں یو شٹ اپ کہہ دیا تھا، سینیٹر پرویز رشید کی بیچ بچاؤ کروانے کی کوششیں بھی رائیگاں گئیں۔
پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے علیم خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم ہو کون اس طرح کی بات کرنے والے؟ جس کے جواب میں علیم خان بولے آپ عزت کریں گے تو آپ کی عزت ہم کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پلوشہ خان علیم خان کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔