خیبر پختونخوا: گرلز کالجز میں موسیقی، رقص، ماڈلنگ کی سرگرمیوں پر پاپندی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
خیبر پختونخوا میں گرلز کالجز میں تقریبات کے انعقاد کے لیے ایس او پیز جاری کردیے گئے۔ پشاور سے ڈائریکٹوریٹ ہائر ایجوکیشن نے کالجز کی پرنسپلز کو مراسلہ ارسال کردیا۔
مراسلے کے مطابق گرلز کالجز میں موسیقی، رقص، ماڈلنگ اور اس نوعیت کی دیگر سرگرمیوں پر پاپندی ہوگی۔
مراسلے کے مطابق ویلکم، فیئر ویل پارٹیز، اسپورٹس گالا، ثقافتی پروگرامز کے لیے پیشگی اجازت لازمی قرار دیا گیا ہے۔ تقریب سے قبل ڈائریکٹر یا ریجنل ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن سے اجازت اور مہمانوں کی فہرست جمع کرانا لازمی ہوگا۔
کالج اوقات اور تقریبات کے دوران طالبات کے موبائل فون کے استعمال پر پابندی ہوگی، تقریبات میں شرکت کے لیے کالج یونیفارم کی پابندی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
مراسلے کے مطابق طالبات کی حفاظت اور باوقار ماحول کو یقینی بنانے کے لیے سخت سیکیورٹی اور نگرانی کے انتظامات ہوں گے۔ تقریبات کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر پابندی ہوگی۔
تمام تقریبات سماجی، ثقافتی اقدار کے مطابق منعقد کی جائیں اور خلاف ورزی پر کارروائی ہوگی۔
مراسلے کے مطابق ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والے کالجز کے خلاف سخت تادیبی کارروائی ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مراسلے کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔