کراچی میں ریلی نکالنے پر امیر جماعت اسلامی منعم ظفر سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر اور دیگر کے خلاف احتجاجی ریلی اور جلسہ کرنے پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: شادی سے وقت مل گیا ہو تو وزیراعظم کراچی پر بھی کچھ توجہ دیں، امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر
ایس ایچ او ٹیپو سلطان تھانہ اظہر خان کی مدعیت میں درج ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق واقعہ شاہراہ فیصل پر پیش آیا جہاں سیاسی جماعت کے کارکنان احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہرین میں قریباً 800 سے ایک ہزار مرد و خواتین شامل تھے۔
ایف آئی آر میں درج ہے کہ ریلی کی قیادت جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر کر رہے تھے، جبکہ ان کے ہمراہ منظر عالم، راشد اور دیگر کارکن بھی موجود تھے۔
’ریلی کے باعث شاہراہ فیصل پر ایمبولینس اور دیگر گاڑیاں رک گئی تھیں جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔‘
مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: جماعت اسلامی نے وزیراعلیٰ سندھ سے استعفے کا مطالبہ کردیا، ملین مارچ کا اعلان
اطلاعات کے مطابق کچھ افراد تیز دھار آلات کے ساتھ سڑک پر ٹینٹ بھی لگا رہے تھے، جبکہ مظاہرین نعرے بازی بھی کر رہے تھے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جماعت اسلامی کراچی ریلی مقدمہ درج وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کراچی ریلی وی نیوز جماعت اسلامی کراچی رہے تھے
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے