افغان عبدالرحمن نے زبردستی پلاٹ پر قبضہ کر رکھا ہے، نفیس خان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)حیدرآباد کے علاقہ لطیف آباد نمبر 11فاطمہ جناح کالونی کی رہائشی مسماۃ نفیس خان زوجہ محمد حنیف خان نے حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ عبدالرحمان ولد زرین خان جو کہ مبینہ طور پر افغان نژاد پٹھان ہے، اس نے زبردستی ان کے پلاٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ پلاٹ کا رقبہ 40×24فٹ ہے جو کچی آبادی میں واقع ہے جبکہ پلاٹ کے اسٹامپ پیپرز سمیت تمام قانونی دستاویزات بھی میرے پاس موجود ہیں، اس کے باوجود مذکورہ شخص نے طاقت اور دھونس کے زور پر قبضہ کر رکھا ہے۔مسماۃ نفیس خان کے مطابق اس پلاٹ کے اصل مالک خدابخش ماچھی ہیں جنہوں نے اس سے قبل تین مرتبہ قبضہ ختم کروایا، تاہم عبدالرحمان دوبارہ قبضہ کر لیتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مذکورہ شخص علاقے میں افغان باشندوں کی کالونی قائم کرنا چاہتا ہے اور غیرقانونی طور پر مقیم افغانیوں کو لوگوں کے پلاٹس پر بٹھا کر قبضے کرواتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عبدالرحمان کے خلاف مختلف تھانوں میں قبضہ گیری کے الزامات پر 13 ایف آئی آرز درج ہیں۔ چند روز قبل مختیارکار لطیف آباد کے عملے نے پلاٹس پر قبضوں کے معاملے پر اسے گرفتار بھی کروایا تھا، تاہم پولیس نے مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض اسے رہا کر دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔