Express News:
2026-07-24@09:35:58 GMT

شب برأت میں نبی کریم ﷺ کے معمولات

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

 حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ میں نے ایک رات رسول اﷲ ﷺ کو نہ پایا۔ تو آپؐ کو بقیع (مدینہ کے قبرستان) میں پایا۔ آپؐ نے فرمایا: ’’اے عائشہؓ! کیا تجھے اس بات کا ڈر تھا کہ اﷲ اور اس کا رسولؐ تجھ پر زیادتی کرے گا ؟ انھوں نے عرض کیا: یارسول اﷲ ﷺ! میں نے خیال کیا شاید آپؐ ازواج مطہراتؓ میں سے کسی کے ہاں تشریف لے گئے ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: بے شک! اﷲ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب میں آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے، پس قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ (دوزخی لوگوں کی) مغفرت فرماتا ہے۔‘‘

شب برأت کی مزید حقیقت اس روایت سے بھی معلوم ہوتی ہے جو بیہقی میں حضرت عائشہؓ سے منقول ہے کہ آپؐ نے فرمایا: کیا تمھیں معلوم ہے کہ شعبان کی اس پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے؟ عرض کیا: فرمائیے کیا ہوتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’اس رات میں یہ ہوتا ہے کہ اس سال جتنے پیدا ہونے والے ہیں وہ سب لکھ دیے جاتے ہیں اور جتنے مرنے والے ہیں وہ بھی سب لکھ دیے جاتے ہیں اور اس رات میں سب بندوں کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور اسی رات میں لوگوں کی مقررہ روزی اترتی ہے۔

حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جب شعبان کی پندرہویں شب آئے۔ تو رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو۔‘‘ اس حدیث سے شعبان کی پندرہویں تاریخ کو روزہ رکھنے کا حکم معلوم ہوا یہ روزہ رکھنا مستحب ہے اگر کوئی رکھے تو ثواب ہے نہ رکھے تو گناہ نہیں۔

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے اس رات کان لگا کر غور سے سنا تو آپ ﷺ یہ دعا فرما رہے تھے: ’’اے اﷲ! میں تیرے عفو کی پناہ چاہتا ہوں تیری سزا سے اور تیری رضا کی پناہ چاہتا ہوں تیرے غصہ سے اور پناہ چاہتا ہوں تیری سختیوں سے۔ اے اﷲ! میں آپ کی تعریف کا شمار نہیں کرسکتا۔ آپ کی ذات ایسی ہی بلند و بالا ہے جیسے آپ نے خود فرمایا۔‘‘

حضرت عائشہؓ نے دریافت کیا: یارسول اﷲ ﷺ! آپؐ رات کو یہ دعا پڑھ رہے تھے تو آپؐ نے فرمایا: ہاں! تم بھی یہ کلمات یاد کرلو اور دوسروں کو بھی بتا دو۔ یہ کلمات جبرئیل علیہ السلام نے مجھے بتائے ہیں۔

بیہقی میں آپ ﷺ سے سجدہ میں یہ دعا مانگنا بھی ثابت ہے، مفہوم: ’’سجدہ کیا تجھے میرے ظاہر و باطن نے اور میں سچے دل سے تجھ پر ایمان لایا۔ پس میرا یہ ہاتھ اور جو کچھ میں نے اس سے اپنی جان پر گناہ کیے ہیں اے عظمت و بزرگی والے! ان بے شمار گناہوں کو معاف فرما دے۔ سجدہ کیا میں نے اس ذات اقدس کو جس نے پیدا فرمایا اور اس کی صورت بنائی کان اور آنکھیں دیں۔‘‘

اس کے علاوہ یہ دعا بھی آپ ﷺ سے اس رات میں مانگنا ثابت ہے، مفہوم: ’’اے اﷲ! مجھے ایسا پاکیزہ دل عطا فرما جس میں شرک کا شائبہ بھی نہ ہو اور نہ بدکار ہو اور نہ بدبخت ہو۔‘‘

اے رب العزت ہمیں اس رات کی برکتوں سے مستفیض فرما اور ہمارا نام بھی ان لوگوں میں شامل فرما دے جن کی مغفرت کا فیصلہ اس رات میں ہوتا ہے اور آنے والے سال میں جو زندگی دے وہ خیر و برکت اور نیکی کے ساتھ ہو اور موت لکھی جاچکی ہے تو اے رب ذوالجلال! ایمان پر خاتمہ نصیب فرما۔ آمین

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی

پشاور:

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔

فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔

انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر