Express News:
2026-06-03@00:00:12 GMT

شب برأت میں نبی کریم ﷺ کے معمولات

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

 حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ میں نے ایک رات رسول اﷲ ﷺ کو نہ پایا۔ تو آپؐ کو بقیع (مدینہ کے قبرستان) میں پایا۔ آپؐ نے فرمایا: ’’اے عائشہؓ! کیا تجھے اس بات کا ڈر تھا کہ اﷲ اور اس کا رسولؐ تجھ پر زیادتی کرے گا ؟ انھوں نے عرض کیا: یارسول اﷲ ﷺ! میں نے خیال کیا شاید آپؐ ازواج مطہراتؓ میں سے کسی کے ہاں تشریف لے گئے ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: بے شک! اﷲ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب میں آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے، پس قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ (دوزخی لوگوں کی) مغفرت فرماتا ہے۔‘‘

شب برأت کی مزید حقیقت اس روایت سے بھی معلوم ہوتی ہے جو بیہقی میں حضرت عائشہؓ سے منقول ہے کہ آپؐ نے فرمایا: کیا تمھیں معلوم ہے کہ شعبان کی اس پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے؟ عرض کیا: فرمائیے کیا ہوتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’اس رات میں یہ ہوتا ہے کہ اس سال جتنے پیدا ہونے والے ہیں وہ سب لکھ دیے جاتے ہیں اور جتنے مرنے والے ہیں وہ بھی سب لکھ دیے جاتے ہیں اور اس رات میں سب بندوں کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور اسی رات میں لوگوں کی مقررہ روزی اترتی ہے۔

حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جب شعبان کی پندرہویں شب آئے۔ تو رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو۔‘‘ اس حدیث سے شعبان کی پندرہویں تاریخ کو روزہ رکھنے کا حکم معلوم ہوا یہ روزہ رکھنا مستحب ہے اگر کوئی رکھے تو ثواب ہے نہ رکھے تو گناہ نہیں۔

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے اس رات کان لگا کر غور سے سنا تو آپ ﷺ یہ دعا فرما رہے تھے: ’’اے اﷲ! میں تیرے عفو کی پناہ چاہتا ہوں تیری سزا سے اور تیری رضا کی پناہ چاہتا ہوں تیرے غصہ سے اور پناہ چاہتا ہوں تیری سختیوں سے۔ اے اﷲ! میں آپ کی تعریف کا شمار نہیں کرسکتا۔ آپ کی ذات ایسی ہی بلند و بالا ہے جیسے آپ نے خود فرمایا۔‘‘

حضرت عائشہؓ نے دریافت کیا: یارسول اﷲ ﷺ! آپؐ رات کو یہ دعا پڑھ رہے تھے تو آپؐ نے فرمایا: ہاں! تم بھی یہ کلمات یاد کرلو اور دوسروں کو بھی بتا دو۔ یہ کلمات جبرئیل علیہ السلام نے مجھے بتائے ہیں۔

بیہقی میں آپ ﷺ سے سجدہ میں یہ دعا مانگنا بھی ثابت ہے، مفہوم: ’’سجدہ کیا تجھے میرے ظاہر و باطن نے اور میں سچے دل سے تجھ پر ایمان لایا۔ پس میرا یہ ہاتھ اور جو کچھ میں نے اس سے اپنی جان پر گناہ کیے ہیں اے عظمت و بزرگی والے! ان بے شمار گناہوں کو معاف فرما دے۔ سجدہ کیا میں نے اس ذات اقدس کو جس نے پیدا فرمایا اور اس کی صورت بنائی کان اور آنکھیں دیں۔‘‘

اس کے علاوہ یہ دعا بھی آپ ﷺ سے اس رات میں مانگنا ثابت ہے، مفہوم: ’’اے اﷲ! مجھے ایسا پاکیزہ دل عطا فرما جس میں شرک کا شائبہ بھی نہ ہو اور نہ بدکار ہو اور نہ بدبخت ہو۔‘‘

اے رب العزت ہمیں اس رات کی برکتوں سے مستفیض فرما اور ہمارا نام بھی ان لوگوں میں شامل فرما دے جن کی مغفرت کا فیصلہ اس رات میں ہوتا ہے اور آنے والے سال میں جو زندگی دے وہ خیر و برکت اور نیکی کے ساتھ ہو اور موت لکھی جاچکی ہے تو اے رب ذوالجلال! ایمان پر خاتمہ نصیب فرما۔ آمین

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ منگل کو گورنر آفس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں ڈی آئی خان کے دینار ہسپتال کے لیے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر گورنر نے کہا کہ جنوبی اضلاع کے کینسر کے مریضوں کو شدید مشکلات کاسامنا ہے، وفاق طبی آلات کی فراہمی میں تعاون کرے جس پر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے دینار ہسپتال کے لیے ضروری مشینری اور طبی آلات کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔

گورنر نے کہا کہ وفاق صحت کے شعبے میں خیبرپختونخوا کے پسماندہ اور متاثرہ علاقوں پر خصوصی توجہ دے، دینار ہسپتال میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی سے جنوبی اضلاع کے مریضوں کو ریلیف ملے گا۔ وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے ہرممکن تعاون کریں گے۔ ملاقات میں وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون مزید بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کریم کنڈی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال