’جینے دو کراچی مارچ‘ نے ثابت کردیا کراچی جاگ رہا ہے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی ضلع کورنگی کے امیر مرزا فرحان بیگ نے شاہراہ فیصل پر امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں ہونے والے ’’جینے دو کراچی مارچ‘‘ میں عوام کی فقیدالمثال شرکت اور مارچ کی تاریخی کامیابی پر اہل کراچی بالخصوص کورنگی لانڈھی کے عوام سے تشکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاہراہ فیصل پر کراچی کے عوام کا سمندر امڈ آیا تھا۔ جینے دو کراچی مارچ کی کامیابی اس بات کا اعلان ہے کہ کراچی کے عوام اپنے حقوق کیلیے اب جاگ اٹھے ہیں۔ جینے دو کراچی مارچ عوام کے دلوں کی آواز تھا، کراچی کے عوام نے اپنے شہر کے مستقبل اور اپنے تحفظ کیلیے جینے دو کراچی مارچ میں بھرپور طریقے سے شرکت کرکے حکومت کے ظالمانہ اور جابرانہ رویے کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور آئندہ سندھ اسمبلی پر بھی تاریخی دھرنا اور احتجاج کر کے اہل کراچی کے حقوق اب سندھ کے حکمرانوں سے چھین کرلیں گے۔ قبضہ میئر مرتضیٰ وہاب کو گھر بھیجنے تک ہمارا احتجاج اور دھرنا جاری رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جینے دو کراچی مارچ کراچی کے کے عوام
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔