پی ٹی آئی کا 8 فروری کا احتجاج؛ حکمت عملی سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
سٹی 42: پاکستان تحریکِ انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، احتجاجی حکمت عملی سامنے آ گئی ۔
اجلاس میں 8 فروری کے احتجاج کو شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گی ا۔ احتجاج میں کسی بھی صوبے اور شاہراہ کی بندش کا فیصلہ نہ ہو سکا ۔اجلاس میں نوجوان اراکین نے بھر پور احتجاج کا مشورہ دیا اعلی قیادت نے پھر مسترد کر دیا ۔سینئر اراکین نے رائے دی کہ پنجاب میں ہم پر سختی ہے احتجاج ممکن نہیں ، خیبر پختونخواہ کو بند کرنا ناانصافی ہے ۔اگر خیبر پختونخواہ کو بند کیا تو لوگ ہم سے ہی شکوہ کریں گے کہ ووٹ بھی دیا اور صوبہ بھی بند کروا لیا ۔
اجلاس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ نے خصوصی شرکت کی۔اجلاس میں بلوچستان میں دہشتگردی کے حالیہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ۔اجلاس نے شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا
ورلڈ کپ میچ بائیکاٹ، اگر بھارت اور پاکستان سپر 12، سیمی فائنل اور فائنل میں ٹاکرا ہوا تو پھر کیا ہوگا ؟
اجلاس میں بانی چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس کا مؤقف تھا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق اطلاعات نے پورے ملک کے عوام میں اضطراب پیدا کر دیا ہے۔
اجلاس میں وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کی وزیراعظم شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات کو خوش آئند قرار دیا گیا۔ اجلاس میں شدید موسمی حالات کے دوران وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے متاثرہ خاندانوں کی فوری بحالی اور مکمل ازالے کا مطالبہ کیا گیا۔اجلاس میں خیبر جرگہ کے فیصلوں کی مکمل تائید کی گئی ۔اجلاس میں 8 فروری کو شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کو مؤثر بنانے کے لیے اسٹریٹ موومنٹ کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
موسم تبدیل ؛ سکولوں کے اوقات کار بھی تبدیل ہوگئے
اجلاس میں سندھ اور پنجاب میں پارٹی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اجلاس میں
پڑھیں:
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔
اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔
موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔
کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔