پیپلز پارٹی کو کراچی کے عوام نے مسترد کیا‘ یہ قابض گروپ ہے‘ امیر العظیم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260203-01-17
لاہور (نمائندہ جسارت) سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم نے وزیراعلیٰ سندھ کے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مراد علی شاہ شاید بھول گئے ہیں کہ عوام نے کراچی میں میئر اور قومی انتخابات کے دوران جماعت اسلامی کو ووٹ دیا تھا مگر پیپلز پارٹی نے طاقت ، دھونس اور دھاندلی سے شہر کی میئر اور قومی و صوبائی کی سیٹوں پر قبضہ کرلیا۔ قابضین کو قابض ٹولہ نہ کہیں تو کیا کہا جائے؟ مراد علی شاہ صوبے اور شہر کراچی کے مسائل پر توجہ دیں۔منصورہ سے جاری بیان میں امیرالعظیم نے کہا کہ مظاہرے اور دھرنے عوام کا جمہوری حق ہے ، پیپلز پارٹی یہ حق عوام سے نہیں چھین سکتی۔ کراچی کے عوام نے جینے دو کراچی مارچ میں ریکارڈ شرکت کرکے بااختیار مقامی حکومتوں کے قیام کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے۔ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم سے کراچی کے عوام بدظن ہیں ، لوگ کسی صورت بھی دونوں کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ فارم 47 سے آئے ہوئے حکمران ٹولے نے کراچی کو تباہ کردیا۔ پیپلز پارٹی گزشتہ 17 برس سے صوبے پر قابض ہے اور اسٹیبلشمنٹ کی اے ٹیم کے طور پر کام کررہی ہے۔ حکمران پارٹی صوبے کے فنڈز کا حساب دیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے جتنی سیٹیں جیتی تھی وہ اسے واپس کی جائیں اور قومی و صوبائی اسمبلیوں سے فارم 47 کے قبضہ گیروں کو فارغ کیا جائے۔ امیر العظیم نے کہا کہ جماعت اسلامی 14فروری کو کراچی میں تاریخی دھرنا دے گی ۔ عوام کے حقوق کی جدوجہد بھرپور طریقے سے جاری رہے گی۔ جماعت اسلامی نے جس نظام بدلو تحریک کا آغاز کیا ہے وہ اپنے مقاصد کے حصول تک جاری رہے گی۔ کراچی کے عوام دھرنا میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں۔ عوام اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کراچی کے عوام جماعت اسلامی پیپلز پارٹی
پڑھیں:
فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا
فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی
دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔
امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔
فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام
فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کالا ہرن کیس کیا تھا؟سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔
اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔
یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول
سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن