پانی کا بطور جنگی حربہ استعمال مسترد کرنا ضروری ہے، صدر، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260203-08-23
اسلام آباد (مانیٹر نگ ڈ یسک ) صدرمملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پانی کو کبھی بھی جبر کیلئے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور پاکستان کے خلاف پانی کو بطور جنگی حربہ استعمال کرنے کی کوششوں کو مسترد کرنا ضروری ہے، کیونکہ دریاؤں کے بہاؤ میں تعطل لاکھوں زندگیوں، روزگار اور غذائی نظام کیلیے خطرہ ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آبی ذخائر کا تحفظ قومی،ماحولیاتی اور سماجی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، دنیا کے آبی ذخائر کے عالمی دن کی مناسبت سے اپنے پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ دن پاکستان اور اقوام عالم کو آبی ذخائر کے دیرپا تحفظ اور مؤثر انتظام کے عزم کے اعادہ کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار صدر مملکت اور وزیراعظم نے دنیا بھر کے آبی ذخائر کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کے آبی ذخائر کے عالمی دن کے موقع پر میں آبی ذخائر کے تحفظ اور پائیدار انتظام کیلیے ہماری وابستگی کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں، یہ دن 1971 میں آبی ذخائر کے کنونشن، جسے رامسر کنونشن بھی کہا جاتا ہے، کے نفاذ کی یاد دلاتا ہے، پاکستان اس اہم معاہدے کا رکن ہے، جو موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے آبی ذخائر ، ان کے وسائل کے تحفظ اور پائیدار استعمال کو فروغ دیتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا بی ذخائر کے
پڑھیں:
رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ کے لیے قائم رائل کمیشن نے شہر کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے ایک نئی آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے۔
مذکورہ مہم کا مقصد زائرین اور سیاحوں کو مکہ کے تاریخی مقامات، ان کی مذہبی، تہذیبی اور تمدنی اہمیت سے روشناس کرانا اور انہیں شہر کے عظیم ورثے سے مزید قریب لانا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، یہ تمام اقدامات سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
’یہ مہم رائل کمیشن کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد تاریخی ورثے کا تحفظ، ثقافتی اقدار کو فروغ دینا اور تاریخی مقامات کو پائیدار تعلیمی اور ثقافتی مراکز میں تبدیل کرنا ہے۔‘
رائل کمیشن کے مطابق اس حکمت عملی کے تحت درجنوں تاریخی مقامات کی بحالی اور ترقی کا کام مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ مکہ کے 60 اہم تاریخی مقامات کی دستاویز بندی بھی کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: مکہ میں ام القریٰ یونیورسٹی کا انقلابی ڈیجیٹل کلچرل منصوبہ، حجاج اور عمرہ زائرین کا سفر اب مزید یادگار
اس کے علاوہ 27 تاریخی مقامات عوام اور زائرین کے لیے کھولے جا چکے ہیں اور سات وزیٹر سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک کروڑ 75 لاکھ سے زائد افراد ان تاریخی مقامات کا دورہ کر چکے ہیں، جبکہ زائرین کی اطمینان کی شرح 97.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
مذکورہ اعدادوشمار فراہم کی جانے والی سہولیات اور تاریخی ورثے کے تحفظ و ترقی کے اقدامات کی کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تاریخی مقامات تاریخی ورثے رائل کمیشن زائرین سعودی پریس ایجنسی سعودی عرب سعودی وژن سیاح مکہ مکرمہ