بنگلا دیش کے انتخابات اور جماعت اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بنگلا دیش الیکشن میں جماعت اسلامی کی کارکردگی کیا رہے گی؟ پاکستان میں یہ سوال ہر جگہ زیر بحث ہے۔ سیاسی واقعات اور ان کے ممکنہ نتائج انسانی ذہن کو ہمیشہ متوجہ کرتے ہیں، اس لیے اس سوال کا زیر بحث آنا فطری ہے۔ بنگلا دیش کے زمینی حقائق کا جائزہ لے کر ممکنہ انتخابی نتائج پر گفتگو بھی ضروری ہے کیوں کہ اس کا تعلق مستقبل میں پاکستان بنگلادیش تعلق سے ہے لیکن ایک سوال اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔
سوال یہ ہے کہ حسینہ واجد کے مظالم کی شکار جماعت اسلامی جسے اپنی دانست میں ختم کر دیا تھا، طلبہ انقلاب کے بعد یکایک اپنے پاؤں پر کیسے اُٹھ کھڑی ہوئی اور وہ بھی پوری قوت کے ساتھ؟ حالاں کہ بنگلا دیش میں جماعت اسلامی کو کچلنے کا عمل صرف داخلی معاملہ نہیں تھا، اس میں بھارت پوری طرح ملوث تھا۔ جماعت اسلامی اور اس کے اداروں کو تباہ کرنے کے لیے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را کا مکمل نظام بنگلا دیش میں متحرک تھا جسے حسینہ واجد کی مکمل تائید حاصل تھی۔ اس کے باوجود جماعت اسلامی موقع ملتے ہی پوری توانائی کے ساتھ متحرک ہو گئی تو اس کا راز کیا ہے؟ مسلم معاشروں میں اسلامی تحریکوں کی ساخت اور کردار کو سمجھنے کے لیے اس سوال پر غور ضروری ہے۔ اس سوال کا جواب ہمیں اس صورت میں بھی کفایت کرے گا اگر جماعت اسلامی انتخابات میں کام یابی حاصل کر کے حکومت بناتی ہے یا صورت حال مختلف رہتی ہے۔
سب سے پہلے بنیادی بات۔ جماعت اسلامی میں ایسی کیا بات ہے کہ حسینہ واجد کے زمانے کا بہیمانہ سلوک بھی اس کی تنظیم اور حوصلہ ختم کرنے میں ناکام رہا؟ اس راز کو پانے کے لیے ہمیں مولانا مودودی سے مدد لینی ہو گی۔ جماعت اسلامی جب پاکستان میں ظلم و ستم اور پھانسی جیسی سزاؤں کا سامنا کر رہی تھی، مولانا مودودی نے فرمایا تھا کہ ہم لوہے کے چنے ہیں جنہیں اگلا جا سکتا ہے اور نہ نگلا جا سکتا ہے۔ جماعت اسلامی بنگلا دیش کی ہو، پاکستان کی یا بھارت کی، یہ بہر صورت وہی جماعت اسلامی ہے جس کے بانی مولانا مودودی ہیں۔ وہ جماعت اسلامی جس کے بانی مولانا مودودی ہیں، اسے اگر کوئی محض ایک سیاسی جماعت سمجھتا ہے تو غلطی کرتا ہے۔ جماعت اسلامی سیاسی جماعت ضرور ہے لیکن صرف سیاسی جماعت نہیں۔ یہ ایک تحریک ہے۔ تحریکیں دو طرح کی ہوتی ہیں، وقتی اور مستقل۔ وقتی تحریکیں کسی وقتی مسئلے کے لیے اٹھتی ہیں اور کام یابی یا ناکامی کے بعد ختم ہو جاتی ہیں جیسے ہمارے یہاں جنرل مشرف کی آمریت میں وکلا کی تحریک چلی تھی۔ مستقل تحریکیں نظریاتی مقاصد کے لیے وجود میں آتی ہیں، ان پر پابندیاں لگیں، انہیں جبر کے ذریعے دبا دیا جائے یا پھر موت کے گھاٹ اُتار کر ان کے وابستگان کو خوف میں مبتلا کیا جائے، یہ کسی نہ کسی صورت برقرار رہتی ہیں کیوں کہ یہ اپنے مزاج میں پانی جیسی ہوتی ہیں جو کسی نہ کسی طرح راستہ بنا لیتی ہیں۔
بھارت کی جماعت اسلامی کا معاملہ مختلف ہے کیوں کہ اس کا تعلق سیاست سے نہیں لیکن جہاں تک پاکستان اور بنگلادیش کی جماعت اسلامی کا تعلق ہے، ان کے متعلقین صرف سیاست کے لیے ان کا حصہ نہیں بنتے۔ وہ ایک مقصد کے لیے اپنی زندگی ان کے نام کر دیتے ہیں اور یہ مقصد ہے اعلائے کلمۃ الحق۔ اعلائے کلمۃ الحق کا مطلب ہے، سچائی کو برقرار رکھنا اور اس کی پاس داری کرنا۔ مولانا مودودی نے یہ تحریک قائم تو اپنے پیرو کاروں کو یہ بھی بتایا کہ وہ جس کام کا بیڑا اٹھا رہے ہیں، وہ دراصل انبیا کا کام ہے، ختم نبوت کے بعد جس کی تمام تر ذمے داری مسلمانوں پر عاید کر دی گئی ہے لہٰذا جو کوئی بھی جماعت اسلامی کا ساتھی بنے، وہ خوب سوچ سمجھ کر بنے کیوں کہ یہ راستہ پھولوں کی سیج نہیں، اس راہ میں بیش تر کانٹے بچھائے جاتے ہیں۔ جماعت اسلامی کی ریڑھ کی ہڈی اس تصور سے بنی ہے جو مولانا مودودی نے اپنے پیرو کاروں میں اپنے عمل سے راسخ کیا۔ یعنی خود مولانا مودودی نے ابتلا کا سامنا کیا حتیٰ کہ موت کے منھ میں پہنچا دیے گئے لیکن وہ ثابت قدم رہے۔ جماعت اسلامی پر جب بھی مشکل وقت آتا ہے، اسلام کی تاریخ عزیمت کی مثالیں تو اس کے سامنے ہوتی ہی ہیں خود مولانا مودودی کی اپنی مثال بھی جماعت کے کارکن کے سامنے آ جاتی ہے اور وہ ابتلا کے مواقع پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتا ہے۔
جماعت اسلامی کی سخت جانی کا ایک راز اور بھی ہے۔ وہ اپنی نوعیت میں کوئی خفیہ تحریک تو ہرگز نہیں ہے لیکن جماعت کا کارکن جماعت اسلامی میں پورے کا پورا شامل ہوتا ہے۔ اس کی تعلیم اور تربیت کی بنیاد قرآن حکیم کی ایک آیت ہے یعنی ادخلوا فی السلم کافۃ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اس کے نزدیک جو لوگ جماعت اسلامی میں شامل نہیں ہیں ، وہ اسلام میں شامل نہیں ہوئے بلکہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کا کارکن ایک شعوری فیصلے کے تحت ایک طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت کام کرنے کے لیے اس کا حصہ بنا ہے۔ اس لیے اس کے نزدیک جماعت اسلامی میں شمولیت دراصل اس کی اسلام میں شمولیت ہے۔ جماعت اسلامی کا کارکن چوں کہ پوری زندگی اپنی جماعت کو دے دیتا ہے اس لیے جماعت کے ڈسپلن سے ہٹ کر بھی وہ ایک اجتماعیت کا حصہ بنتا ہے جس میں باہمی تعلق کے علاوہ سماج کی تربیت اور بہبود کے علاوہ خدمت خلق کا ایک نظام قائم ہو جاتا ہے۔ جماعت کی تنظیم برقرار رہے یا نہ رہے، یہ نظام کسی نہ کسی صورت فعال رہتا ہے اور کارکنوں کا باہمی تعلق تو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ جماعت اسلامی کہیں کی بھی ہو، یہ خودکار نظام اس کا سب سے بڑا اثاثہ ہے جو اسے کسی عام جماعت کی طرح موت کے منھ میں جانے سے بچا لیتا ہے۔ یہی اسباب رہے ہوں گے جن کی وجہ سے بنگلا دیش میں حسینہ واجد دور جبر کے ختم ہوتے ہی جماعت اسلامی پوری توانائی سے اُٹھ کھڑی ہوئی اور اب وہ وہاں کے سیاسی نظام کے بڑے اسٹیک ہولڈرز میں سے ایک ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں جماعت اسلامی کیسی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی؟ اس ضمن میں بنگلا دیش اور وہاں کی جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ جاننے والے پروفیسر سلیم منصور خالد کا خیال ہے کہ اس معاملے میں امیدوں کا تاج محل کھڑا کرنے کے بجائے زمینی حقائق کے مطابق اندازے قائم کرنے چاہئیں۔ وہ بنگلا دیش کے حالات سے مسلسل باخبر رہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ انتخابات کا نتیجہ کچھ بھی ہو سکتا ہے کیوں کہ بی این پی بھی بہت مقبول ہے اور رائے عامہ کے جائزوں میں اس کی مقبولیت جماعت سے زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ اس لیے جماعت اسلامی حکومت بناتی ہے یا نہیں، اس سے زیادہ اہم سوال اس کی سیاسی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے۔ طلبہ تحریک کے انقلاب کے بعد جماعت اسلامی انگڑائی لے کر اٹھی تو عمومی خیال یہی تھا کہ وہ تنہا پرواز کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس نے ہم خیال جماعتیں اور گروہ تلاش کر کے ایک بڑا اتحاد تشکیل دیا۔ یہی کچھ اس کے انتخابی حریف بھی کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے انتخابی عمل سے خالص سیاسی انداز میں نمٹنے کی حکمت عملی اختیار کی۔ ایسا کرتے ہوئے اس نے اپنی نظریاتی حساسیت کو انتخابی میدان کا حصہ نہیں بننے دیا۔ اگر وہ ایسا کرتی تو اس کے نتیجے میں اپنے کارکنوں اور متاثرین کے دائرے میں محدود ہو کر رہ جاتی، عوام میں اس کی مقبولیت کا خانہ خالی رہتا۔ (فاروق عادل کی وال سے)
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی میں مولانا مودودی نے جماعت اسلامی کی جماعت اسلامی کا حسینہ واجد بنگلا دیش یہ ہے کہ کیوں کہ کا مطلب ہے کہ ا اس لیے کا حصہ ہے اور کے بعد لیے اس کے لیے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ذرائع کاکہنا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہوسکا، وفاقی بجٹ 8یا 12جون کو پیش کئے جانے کا امکان ہے۔
قومی اقتصادی کونسل کا 3جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی کردیا گیا، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیاگیا۔
یادرہے کہ اس سے قبل خیال کیا جارہا تھا کہ وفاقی بجٹ5جون کو پیش کیا جائے گا۔
مزید :