Jasarat News:
2026-06-02@22:38:35 GMT

غور کیجیے! دہشت گردی کیوں ختم نہیں ہو رہی؟

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دہشت گردوں نے ایک ہی دن بلوچستان کے 12 مقامات پر حملے کیے جنہیں سیکورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے ناکام بنا دیا، اس دوران 92 دہشت گرد ہلاک ہوئے جن میں تین خودکش بمبار بھی شامل ہیں جبکہ پولیس ایف سی اور نیوی سمیت سیکورٹی فورسز کے 17 افراد اور 18 شہریوں نے جام شہادت نوش کیا ان حملوں میں بڑے پیمانے پر املاک کو بھی نقصان پہنچا وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بتایا کہ 40 گھنٹوں کے دوران 145 دہشت گرد ہلاک کیے گئے ہیں جن کی لاشیں حکام کے پاس موجود ہیں سیکورٹی فورسز کئی دہائیوں سے بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں مصروف ہیں اس دوران ہزاروں آپریشن کیے گئے، بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، فوج ایف سی پولیس اور دیگر اداروں کے ہزاروں افسران اور جوان شہید ہوئے، فوجی اور شہری تنصیبات تباہ ہوئیں، معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا حکومت اور فوج کا موقف ہے کہ یہ دہشت گرد ہندوستانی حکومت اور فوج کی امداد سے بلوچستان کا امن تباہ کر رہے ہیں انہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔

بھارت پاکستان کا دشمن ہے اس سے ہمیں کوئی اچھی توقع رکھنا بھی نہیں چاہیے لیکن اس حوالے سے ضرور غور کرنا ہوگا کہ سیکڑوں دہشت گرد مارے جاتے ہیں پھر مزید نوجوان کیسے دہشت گرد بن جاتے ہیں یہ عمل مسلسل جاری ہے مختلف آپریشنوں میں دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا رہا ہے لیکن پھر مزید دہشت گرد سامنے آجاتے ہیں، یہ بات واضح ہے کہ یہ سب پاکستانی شہری ہیں کیونکہ ہماری حکومت فوج نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا ہے کہ یہ لوگ بھارت یا کسی اور ملک سے کے باشندے ہیں، اس سے واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری حکمت عملی ناقص ہے ہمیں اس پر از سر نو غور کرنا چاہیے، بھارت میں تو ایسی کوئی کشش نہیں ہے کہ کوئی پاکستانی اس کے لیے اپنی جان قربان کر دے، ہمیں سوچنا چاہیے کہ پھر اتنی بڑی تعداد میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جان دینے پر کیوں تیار ہو جاتے ہیں اگر یہ نوجوان ریاست کے باغی ہو گئے ہیں اور آزادی کا نعرہ لگا رہے ہیں تب بھی ہمیں ان کی وجوہ تلاش کرنی چاہییں صرف انہیں مار دینا مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ مسئلے کو بڑھا رہا ہے حالات بہتر ہونے کے بجائے خوفناک ہوتے جا رہے ہیں۔ پہلے بسوں پر حملے ہوتے تھے اب ٹرینیں چلانا بھی مشکل ہو گیا ہے ہر کچھ روز بعد ریلوے ٹریک پر دھماکا ہو جاتا ہے دنیا کے دیگر ممالک نے دہشت گردوں پر کس طرح قابو پایا اگر ہم اس کا جائزہ نہیں لے سکتے تو کم از کم اس پر تو غور کرسکتے ہیں کہ ہمارا اپنا وطن پاکستان کیوں ٹوٹ گیا یقینا دوسروں کی بہت غلطیاں ہوں گی، جرائم ہوں گے مگر ہم نے کیا غلطیاں کیں، جرائم کیے کہ پاکستان کی اکثریت نے اقلیت کے خلاف بغاوت کر دی اور شدید ترین فوجی آپریشن کے باوجود اپنے آپ کو ہم سے الگ کر لیا۔

بیش تر دانشوروں کا خیال ہے کہ جو غلطیاں ہم سے مشرقی پاکستان میں ہوئیں لگ بھگ ایسی ہی حماقتیں ہم بلوچستان میں بھی کر رہے ہیں برس ہا برس سے بلوچستان میں عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو اقتدار نہیں دیا جا رہا، اپنی مرضی کے انتخابی نتائج کا اعلان کیا جاتا ہے اور اپنی کٹھ پتلیوں کو صوبے کے عوام پر مسلط کر دیا جاتا ہے، اب تو حال یہ ہو گیا ہے کہ کسی اور نے نہیں پاکستان کے صف اوّل کے رہنما مولانا فضل الرحمن نے الزام لگایا کہ ملک بھر میں تو اپنی پسند کے امیدواروں کو جیتا ہوا قرار دیا گیا لیکن بلوچستان میں اس سے بڑھ کر سانحہ یہ ہوا کہ وہاں پارلیمانی نشستیں فروخت کی گئیں جو لوگ پیسے دے کر ایوانوں میں پہنچیں گے ان سے توقع ہی نہیں کی جا سکتی کہ وہ ملک صوبے یا عوام سے مخلص ہوں وہ اپنی ادا کردہ رقم سے سیکڑوں گنا زیادہ کمانے میں مصروف رہیں گے۔ بلوچستانی عوام کے جو حقیقی نمائندے ہیں یہ ان کی بھی توہین ہے اور وہاں کے لوگوں کو بھی حقیر سمجھنا ہے کیا یہی رویہ ہمارا مشرقی پاکستان کے رہنماؤں اور عوام کے ساتھ نہیں رہا جو بھی بنگالی رہنما وزیراعظم بنا اسے چند ماہ میں بے ہودہ طریقے سے فارغ کر دیا گیا، مشرقی پاکستان جب ہم سے الگ ہوا تو پاکستانی فوج، پولیس اور انتظامیہ میں بنگالیوں کا تناسب شرمناک حد تک کم تھا دنیا بھر میں سب سے زیادہ جوٹ مشرقی پاکستان میں پیدا ہوتا تھا لیکن اس کی صنعت مغرب پاکستان میں لگائی گئی، کیا بلوچستان کے وسائل کے ساتھ بھی ایسا ہی نہیں ہو رہا؟

پاکستان میں قدرتی گیس سب سے پہلے بلوچستان کے شہر سوئی میں دریافت ہوئی تھی جس سے پنجاب سندھ اور دیگر علاقے فائدہ اٹھاتے رہے لیکن یہ شرمناک حقیقت ہے کہ خود سوئی شہر کے باشندے طویل عرصے تک اس سے بالکل محروم رہے، اب کچھ گیس سوئی کے لوگوں کو بھی دی جانے لگی ہے، صوبے میں گیس کنکشن اور گیس کی فراہمی میں اب بھی بہت مشکلات ہیں، اسی طرح صوبے میں انتہائی قیمتی معدنیات کے حوالے سے غیر ملکی اداروں سے جو معاہدے کیے جا رہے ہیں ان میں بلوچستان کے حقیقی نمائندوں اور عوام کو شریک کرنا تو کجا انہیں ان معاہدوں سے ہی لاعلم رکھا جا رہا ہے، کیا یہ رویہ رکھ کر ہمیں بلوچستان کے عوام سے پھول برسانے کی توقع رکھنی چاہیے۔ بلوچستان میں صحت کی سہولتوں کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں کے لوگ جب بیمار پڑتے ہیں تو علاج کے لیے کراچی یا پنجاب کے شہروں میں جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ شدید غربت کے شکار ان لوگوں پر کیا گزرتی ہوگی، مہنگے علاج کے ساتھ ساتھ سفر اور قیام و طعام کے اخراجات کے بعد بندہ اگر صحت یا ہو بھی جائے تو معاشی بدحالی اس کی کمر توڑ دیتی ہوگی ہمارے وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ اور وفاقی و صوبائی وزراء کی صلاحیتیں صرف اتنی ہیں کہ دہشت گردی کے ہر واقعے کے فوراً بعد ایک بیان داغ دیا جائے جس میں دہشت گردوں کی مذمت کی گئی ہو اور دعویٰ کیا گیا ہو کہ ہم دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے دہشت گردی کے خلاف عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ہمیں وہاں عدل و انصاف پر مبنی نظام بھی رائج کرنا ہوگا، عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو اقتدار دینا ہوگا، مضبوط مقامی حکومتیں بننے کی راہ ہموار کرنی ہوگی، فوج، پولیس، عدلیہ اور انتظامیہ ہر جگہ بلوچستان کے عوام کو ان کا جائز حق دینا ہوگا وہاں کے قیمتی ذخائر کے حوالوں سے منصفانہ اور شفاف طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا صرف فوج کی تعریفیں کر نے سے کچھ نہیں ہوگا۔

احمد حسن سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مشرقی پاکستان بلوچستان میں دہشت گردی کے پاکستان میں بلوچستان کے جاتے ہیں عوام کے کے ساتھ رہے ہیں کے خلاف دیا جا

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟