Nawaiwaqt:
2026-07-24@05:22:16 GMT

 شب برات آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گی 

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

 شب برات آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گی 

    اسلام آباد (آئی این پی  )ملک بھر میں شب برات آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گی۔ مساجد اور گھروں پر نفلی عبادات اور شب بیداری کا خصوصی اہتمام کیا جائے گا۔شب برئت پر ملک بھر کے تمام شہروں کی مساجد اور دیگر عبادت گاہوں میں بابرکت محافل وذکر کی تقریبات  کا اہتمام کیا جائے گا، شب بیداری ہوگی اور رات بھر عبادات اور نوافل ادا کیے جائیں گے۔  علما کرام، خطیب حضرات اور مقررین شب برات کی فضیلت بیان کریں گے۔ شب برات کے احترام میں روزہ بھی رکھا جائے گا۔ شب برات کے موقع پر مساجد، خانقاہوں اور درباروں کو خوبصورتی سے سجایا گیا ہے۔فرزندان اسلام شب برت کے اجتماعات میں اللہ تعالی کے حضور گناہوں سے توبہ، ملک اور قوم کی سلامتی، عالم اسلام کی سربلندی اور اپنے مرحومین کی مغفرت اور بلند درجات کے لئے خصوصی دعائیں مانگیں گے۔شب برات کے موقع پرلوگ اپنے پیاروں کی قبروں پر پھول چڑھانے اور فاتحہ خوانی کے لئے قبرستانوں میں بھی جائیں گے۔اس موقع پر  قبرستانوں میں مقامی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ روشنی کے بھی انتظامات کیے جاتے ہیں  اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بھی خصوصی ڈیوٹیاں لگائی جاتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر