روس، یوکرین اور امریکا کے سہ فریقی مذاکرات مؤخر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) کریملن نے روس، یوکرین اور امریکا کے درمیان ہونے والے سہ فریقی مذاکرات کے مؤخر ہونے کی وجہ واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ تینوں فریقین کے شیڈول میں ہم آہنگی نہ ہونے کے باعث مذاکرات کو نئی تاریخ پر منتقل کیا گیا۔
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف کے مطابق یہ مذاکرات اتوار کو ہونے تھے تاہم اب یہ ملاقات بدھ اور جمعرات کو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں منعقد ہوگی جبکہ مذاکرات کے انعقاد کی اب باضابطہ تصدیق کر دی گئی ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پہلے ہی اعلان کر چکے تھے کہ یہ مذاکرات 4 اور 5 فروری کو ہوں گے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ علاقائی تنازعات اب بھی ایک بڑا چیلنج ہیں جبکہ روس اس بات پر زور دیتا ہے کہ کسی بھی امن معاہدے میں نئے زمینی حقائق کو تسلیم کیا جانا ضروری ہے، دوسری جانب یوکرینی قیادت کسی بھی قسم کی علاقائی رعایت کو مسترد کرتی رہی ہے۔
روس کا مؤقف ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو اپنے اہداف کے حصول کے لیے دیگر راستے بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں تاہم ماسکو اب بھی سیاسی حل کو ترجیح دینے کی بات کرتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ابوظہبی میں ہونے والا یہ دوسرا دور مستقبل کی سفارتی سمت کے تعین میں اہم ثابت ہو سکتا ہے تاہم اختلافات کی گہرائی کو دیکھتے ہوئے کسی فوری پیش رفت کی توقع کم ہے۔
یاد رہے کہ سہ فریقی مذاکرات کا پہلا دور 23 اور 24 جنوری کو ابوظہبی میں ہوا تھا جو فروری 2022 کے بعد پہلا موقع تھا جب ماسکو، کیف اور واشنگٹن کے نمائندے ایک ہی میز پر بیٹھے، اگرچہ ان بات چیت کو تعمیری قرار دیا گیا تاہم کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہ ہو سکا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔