Express News:
2026-06-02@22:23:08 GMT

دانتوں کی صفائی نے موت کے منہ تک پہنچا دیا

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

دانت صاف کرنا بظاہر بظاہر معمولی سا کام ہے، لیکن سری لنکا کے ایک شہری کےلیے یہ زندگی اور موت کی کشمکش بن گیا۔

63 سالہ ریٹائرڈ سرکاری ملازم پریم لال باتھ روم میں برش کرتے ہوئے پھسل کر گرے تو اچانک ٹوتھ برش دو حصوں میں ٹوٹ گیا، جس کا اگلا حصہ سیدھا ان کے حلق میں جا پھنسا اور سانس رکنے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔

پریم لال کے مطابق وہ فوری طور پر قریبی نجی اور پھر سرکاری اسپتال پہنچے، مگر ابتدا میں ڈاکٹروں کو ٹوتھ برش کا ٹوٹا ہوا حصہ تلاش کرنے میں مشکل پیش آئی۔ ایک گھنٹے کے اندر اندر ان کی حالت بگڑنے لگی، گلا بند ہونے لگا اور کھانسی کے ساتھ خون آنے لگا، جس کے بعد ایکسرے اور سی ٹی اسکین میں واضح ہوا کہ برش کا حصہ اندر ہی موجود ہے۔

بعد ازاں پریم لال کو گال شہر کے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا جہاں کان، ناک اور گلے کے ماہرین کی نگرانی میں ایک پیچیدہ آپریشن کیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق برش کا ٹکڑا حلق کو زخمی کرتے ہوئے ایک بڑی شریان کے قریب جا رکا تھا، جو انتہائی خطرناک صورتحال تھی۔ کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد سرجری کامیاب رہی اور برش کا ٹکڑا نکال لیا گیا۔

تقریباً ایک ہفتہ زیرِ علاج رہنے کے بعد پریم لال گھر واپس آ گئے اور اب خود کو بالکل ٹھیک محسوس کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ سب کے لیے وارننگ ہے کہ روزمرہ کے معمولی کام بھی اگر لاپرواہی سے کیے جائیں تو جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے لوگوں کو نصیحت کی کہ ہر حال میں احتیاط کو ترجیح دیں، کیونکہ ایک لمحے کی لغزش پوری زندگی بدل سکتی ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پریم لال برش کا

پڑھیں:

اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار

روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔

معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔

بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار