دانتوں کی صفائی نے موت کے منہ تک پہنچا دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
دانت صاف کرنا بظاہر بظاہر معمولی سا کام ہے، لیکن سری لنکا کے ایک شہری کےلیے یہ زندگی اور موت کی کشمکش بن گیا۔
63 سالہ ریٹائرڈ سرکاری ملازم پریم لال باتھ روم میں برش کرتے ہوئے پھسل کر گرے تو اچانک ٹوتھ برش دو حصوں میں ٹوٹ گیا، جس کا اگلا حصہ سیدھا ان کے حلق میں جا پھنسا اور سانس رکنے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔
پریم لال کے مطابق وہ فوری طور پر قریبی نجی اور پھر سرکاری اسپتال پہنچے، مگر ابتدا میں ڈاکٹروں کو ٹوتھ برش کا ٹوٹا ہوا حصہ تلاش کرنے میں مشکل پیش آئی۔ ایک گھنٹے کے اندر اندر ان کی حالت بگڑنے لگی، گلا بند ہونے لگا اور کھانسی کے ساتھ خون آنے لگا، جس کے بعد ایکسرے اور سی ٹی اسکین میں واضح ہوا کہ برش کا حصہ اندر ہی موجود ہے۔
بعد ازاں پریم لال کو گال شہر کے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا جہاں کان، ناک اور گلے کے ماہرین کی نگرانی میں ایک پیچیدہ آپریشن کیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق برش کا ٹکڑا حلق کو زخمی کرتے ہوئے ایک بڑی شریان کے قریب جا رکا تھا، جو انتہائی خطرناک صورتحال تھی۔ کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد سرجری کامیاب رہی اور برش کا ٹکڑا نکال لیا گیا۔
تقریباً ایک ہفتہ زیرِ علاج رہنے کے بعد پریم لال گھر واپس آ گئے اور اب خود کو بالکل ٹھیک محسوس کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ سب کے لیے وارننگ ہے کہ روزمرہ کے معمولی کام بھی اگر لاپرواہی سے کیے جائیں تو جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے لوگوں کو نصیحت کی کہ ہر حال میں احتیاط کو ترجیح دیں، کیونکہ ایک لمحے کی لغزش پوری زندگی بدل سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔