عمران خان کے کہنے پر انہیں آنکھ کے پروسیجر کیلئے پمز لے جایا گیا: وزیر قانون
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھ کا پروسیجر اڈیالا جیل اسپتال میں ہو سکتا تھا لیکن عمران خان کے کہنے پر انہیں پروسیجر کے لیے پمز اسپتال لے جایا گیا۔سینیٹ اجلاس میں میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بیماری کا ان کی فیملی کو نہ بتاکر جرم کیا گیا، بانی پی ٹی آئی کو بطور شہری اور قیدی ان کے حقوق سے کیوں محروم کیا گیا؟راجہ عباس ناصر کا کہنا تھا عمران خان کی آنکھ ضائع ہو سکتی ہے، آپ انھیں ان کی مرضی کے ڈاکٹر سے چیک کروائیں،کیوں لاپرواہی کر رہے ہیں۔سینیٹر علی ظفر نے کہا بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کو نقصان ہو سکتا ہے، پمز کی رپورٹ پر ہمارے ماہرین مطمئن نہیں ہیں، بانی پی ٹی آئی عمران خان تک دو ماہرین کو رسائی دی جائے، سینیٹ پمز اسپتال کو بانی کی رپورٹ جاری کرنے کی ہدایت کرے تاکہ ہم اسے پبلک کریں۔وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے عمران خان کے آنکھ کی سرجری سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے سینیٹ کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت ٹھیک ہے، ان کا پروسیجر کامیاب ہوا ہے۔وزیر قانون نے ایوان کو بتایا کہ عمران خان کو آنکھ کی جو بیماری تھی اس میں انجیکشن لگتا ہے آپریشن نہیں ہوتا، انہیں کوئی مزید پیچیدگی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھ کا علاج اڈیالہ جیل اسپتال میں ہو سکتا تھا لیکن عمران خان کے کہنے پر انہیں پمز اسپتال لیکر گئے، انہوں نے خود کہا امن و امان کا مسئلہ ہو سکتا ہے انھیں شام کو لے کرجائیں۔سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا رانا ثنا اللہ کو جب گرفتار کیا گیا تھا وہ لاہور سے اسپتال جا رہے تھے، مجسٹریٹ نے انکو جوڈیشل کر دیا، اس وقت کے وزیراعظم کی ہدایت پر راناثناکو جیل ڈاکٹر تک رسائی نہیں دی گئی تھی، ابھی وزیراعظم نے یہ نہیں کہا کہ عمران خان کو ڈاکٹرز اور علاج تک رسائی نہ دی جائے، وزیراعظم انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی عمران خان عمران خان کے عمران خان کی کا کہنا ہو سکتا کی آنکھ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔