لاہور میں بسنت کی بحالی کے اعلان نے جہاں عوام میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے، وہیں حکومتِ پنجاب کی جانب سے اسے ایک ذمہ دارانہ اور محفوظ تہوار بنانے کا عزم بھی سامنے آیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ بسنت صرف ایک علاقائی یا صوبائی تہوار نہیں بلکہ یہ پاکستان کے مثبت، ترقی پسند اور ثقافتی چہرے کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع ہے، جس کے لیے حکومت اور عوام دونوں کو اپنی ذمہ داری نبھانا ہوگی۔

بسنت: ثقافت، شناخت اور عالمی پیغام

مریم نواز نے کہا کہ بسنت محض ایک فیسٹیول نہیں بلکہ ایک اجتماعی جذبہ ہے جسے عوام نے غیر معمولی جوش کے ساتھ اپنایا ہے۔ ان کے مطابق اس تہوار کی بین الاقوامی حیثیت بھی ہے اور دنیا بھر میں لوگ اسے دیکھتے اور مناتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کے کلچر کو دنیا میں متعارف کرانے اور پاکستان کی ایک ترقی پسند تصویر دکھانے کے لیے بسنت سے بہتر موقع شاید ہی کوئی اور ہو۔

انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے یہ بیانیہ سننے کو ملتا رہا ہے کہ ملک کے حالات خراب ہیں، معیشت خطرے میں ہے اور یہاں کوئی سرگرمی ممکن نہیں، مگر اب حالات بدل رہے ہیں۔ ان کے مطابق پنجاب میں ترقی ہو رہی ہے، لوگ آگے بڑھ رہے ہیں اور خوشی منانا چاہتے ہیں، جس کے لیے ایک مثبت ماحول ضروری ہے۔

ذمہ داریاں، حفاظتی انتظامات اور پائلٹ پراجیکٹ

وزیراعلیٰ  کا کہنا تھا کہ بسنت کے انعقاد کے لیے نہایت باریک بینی سے سکیورٹی پروٹوکولز اور اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز تیار کیے گئے ہیں۔ مریم نواز کے مطابق اس سال بسنت کو لاہور تک محدود رکھا جائے گا تاکہ اسے ایک پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر جانچا جا سکے۔ اس تجربے کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا اسے دیگر شہروں تک بڑھایا جا سکتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فول پروف انتظامات کے باعث کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آئے گا۔

ترقی، خوشحالی اور ریاستی ذمہ داری کا تصور

وزیراعلیٰ پنجاب نے خود کو پنجاب کی ماں، بہن اور بیٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جیسے گھر میں ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ خوشگوار ماحول قائم رکھیں، اسی طرح حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ عوام کے لیے ایسا ماحول بنائے جس میں وہ خود کو محفوظ اور خوش محسوس کریں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ایک طرف کھربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، اپنی چھت اپنا گھر اسکیم کے تحت سوا لاکھ سے زائد افراد کو گھر مل چکے ہیں، ہزاروں کلومیٹر سڑکیں تعمیر ہو رہی ہیں، بیوٹیفکیشن کے سینکڑوں منصوبے، ہائی ویز اور جدید ٹرانسپورٹ سسٹمز متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ترقی صرف سڑکیں اور عمارتیں بنانے کا نام نہیں بلکہ عوام کو خوشی اور زندگی سے جڑے مواقع فراہم کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار

آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔

یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔

شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا