وفاق کے پی کے کیساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہا ہے: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکز صوبے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھے ہوئے ہے، جس کے باعث صوبے کو سنگین معاشی اور انتظامی مشکلات کا سامنا ہے۔
پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر وفاق اپنے آئینی اور مالی واجبات ادا کرے تو خیبر پختونخوا محدود وسائل کے باوجود کہیں بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے، قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور جو خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے، اسے ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔
انہوں نے پنجاب کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں سیاسی سرگرمیوں پر غیر اعلانیہ پابندیاں عائد ہیں، جہاں نہ پی ٹی آئی کا جھنڈا لہرایا جا سکتا ہے اور نہ ہی کارنر میٹنگ کی اجازت دی جاتی ہے۔
سہیل آفریدی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے منتخب نمائندوں نے شکایت کی ہے کہ ان کی گاڑیوں کے نمبر ٹیمپر کیے جا رہے ہیں، سیکیورٹی گارڈز سے اسلحہ لے کر ان کے نمبرز تبدیل کیے جاتے ہیں اور پی ٹی آئی کے بزرگ رہنماؤں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ظالمانہ رویوں کے ذمہ دار عناصر کو نوجوانوں نے ہی جمہوری عمل کے ذریعے ری پلیس کرنا ہے، اور خیبر پختونخوا میں نوجوان بلا خوف و خطر مجھ پر بھی تنقید کر سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے ملکی مجموعی صورتحال پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اس وقت معاشی بحران، امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور سیاسی بے یقینی جیسے چیلنجز درپیش ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان حالات میں نوجوان ہی ملک کا اصل سرمایہ ہیں اور مستقبل کی باگ ڈور انہی کے ہاتھ میں ہے، اس لیے نوجوانوں کو چھوٹے نہیں بلکہ بڑے خواب دیکھنے چاہئیں اور عملی میدان میں آگے آنا ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے مالی معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاق پر خیبر پختونخوا کے چار ہزار چار سو ارب روپے سے زائد واجب الادا ہیں، جبکہ قبائلی اضلاع کو صوبے میں ضم کرنے کے باوجود ان کا معاشی حق ادا نہیں کیا جا رہا، عوام کے خون پسینے سے دیے گئے ٹیکس کے پیسے آخر کیوں روکے جا رہے ہیں۔
دہشتگردی کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ اس ناسور کے خاتمے کے لیے سب سے پہلے نیت درست کرنا ہو گی اور تمام سیاسی و ریاستی اداروں کو ایک صف میں کھڑا ہونا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف بیانات سے نہیں بلکہ اجتماعی فیصلوں سے ہی امن ممکن ہے۔
آخر میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اعلان کیا کہ نوجوانوں کو خودمختار بنانے کے لیے بلاسود قرضوں کی رقم 3 ارب روپے سے بڑھا کر 5 ارب روپے کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ناانصافیوں کے باوجود صوبائی حکومت عوامی فلاح کے منصوبے جاری رکھے ہوئے ہے اور محدود وسائل میں بھی خیبر پختونخوا کی ترقی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا کرتے ہوئے کہا ہوئے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔