ہتھیار اٹھانے والوں سے کبھی مذاکرات نہیں کرینگے، علی مدد جتک
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
نو مقرر وزیر داخلہ علی مدد جتک نے کہا ہے کہ دہشتگرد کسی رعایت کے مستحق نہیں اور انکے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائیگی۔ اسلام ٹائمز۔ صوبائی وزیر داخلہ و قبائلی امور علی مدد جتک نے گزشتہ دنوں کوئٹہ میں پیش آنے والے دہشت گردانہ واقعات میں وطن کے دفاع کی خاطر جام شہادت نوش کرنے والے پولیس کے اے ایس آئی محمود الرحمٰن بازئی اور سپاہی عبدالغنی کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر انہوں نے شہداء کے بلند درجات کے لیے دعا کی اور غم زدہ خاندانوں سے دلی تعزیت اور مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک نے کہا کہ یہ بہادر جوان قوم کا فخر ہیں۔ جنہوں نے امن و امان کے قیام اور وطن کی سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم ان عظیم شہداء کو سلام عقیدت پیش کرتی ہے اور ان کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی۔
علی مدد جتک نے واضح کیا کہ دہشت گرد کسی رعایت کے مستحق نہیں اور ان کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام اپنی پولیس اور سکیورٹی فورسز پر فخر کرتے ہیں، جو دن رات امن کے تحفظ کے لیے قربانیاں دے رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا دوٹوک اور واضح مؤقف ہے کہ آئین و قانون کو نہ ماننے اور ہتھیار اٹھانے والوں سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ ریاست دشمن عناصر، بشمول فتنہ الخوارج، کے خلاف ریاستی ادارے پوری قوت کے ساتھ کارروائی کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس قوم میں اپنے دفاع کی ایسی صلاحیت موجود ہو وہ ہر قسم کے چیلنج سے نمٹنا جانتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علی مدد جتک نے نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔