محمود خان کیجانب سے بلوچ قبائل کو بزگر قرار دینا افسوسناک ہے، بی این پی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
اپنے بیان میں بی این پی نے محمود خان اچکزئی کے حالیہ بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنیوالے خوش فہمی میں مبتلا ہیں۔ ہزاروں سالوں سے بلوچ بلوچستان اور کوئٹہ میں آباد ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان اور کوئٹہ کی تاریخ کو مسخ کرکے پیش کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے۔ تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے والے خوش فہمی میں مبتلا ہیں۔ ہزاروں سالوں سے بلوچ بلوچستان اور کوئٹہ میں آباد ہیں۔ ہر ذی شعور شخص بخوبی جانتا ہے کہ کوئٹہ کے مالک شاہوانی، کاسی اور بازئی رہے ہیں۔ بلوچ قبائل کو بزگر قرار دینا افسوسناک ہے۔ اقوام بخوبی جانتے ہیں کہ بلوچ پشتون اپنے اپنے سرزمین پر آباد ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخواء میں حالات انتہائی مخدوش ہیں اور بلوچ دہائیوں سے حالت جنگ میں ہیں۔ ایسے حالات میں محکوم اقوام کے حوالے سے بیانات کا مقصد نفرتوں کو جنم دینا ہے۔ یہ وقت نفرتوں کو جنم دینے کا نہیں، بلکہ بلوچ کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔ 1896ء میں انگریز سامراج نے کوئٹہ سے متعلق جو معاہدہ کیا، وہ خان آف قلات سے کیا تھا۔ جلوگیر کچلاک پر بلوچ حکمرانوں ٹیکس لیا کرتے تھے۔ بیان میں کہا گیا کہ محمود خان اچکزئی ہمارے لئے قابل احترام ہیں۔ موجودہ حالات میں نفرت انگیز بیانات کے بجائے بلوچ، پشتون، ہزارہ اور سیٹلرز کو متحد ہو کر حالات کا مقابلہ کرنا چاہئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بلوچستان اور کہ بلوچ
پڑھیں:
فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز(security forces) نے 24 مئی 2026 کو پیش آنے والے ریل حادثے کے بعد خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں کارروائیاں کیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلوں کے دوران بھارتی اسپانسرڈ فتنۃ الہندوستان کے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا اور ان علاقوں میں سرگرم دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارتی اسپانسرڈ ہلاک دہشت گردوں کے زیرقبضہ ہتھیار، باردو اور بڑے پیمانے دھماکا خیز مواد اور مواد تیار کرنے کی ڈیوائسز برآمد کرلی گئیں۔
بیان میں بتایا گیا کہ ہلاک دہشت گرد بلوچستان کے ان علاقوں میں دہشت گردی کے کئی اہم واقعات میں ملوث رہے تھے۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ علاقے سے دہشت گردوں کے صفایا کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی فورسز اور پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عزم استحکام وژن کے تحت دہشت گردی کے خاتمہ کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی اسپانسرڈ اور تعاون سے جاری دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ ہو۔