اسلام آباد:

وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس نمٹاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور کینیا کی حکومتیں مناسب اقدامات کر  رہی ہیں لہٰذا عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس کے فیصلے میں کہا ہے کہ پاکستان اور کینیا کے درمیان ایم ایل اے پر دستخط ہو چکا، اس وقت عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں لہٰذا ازخود نوٹس کیس اور تمام متعلقہ درخواستیں نمٹائی جاتی ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ارشد شریف کے قتل پر صحافتی برادری اور پاکستانیوں کا دکھ سمجھتے ہیں، ورثا کسی بھی معاملے پر متعلقہ عدالتوں سے رجوع کر سکتے ہیں، پاکستان اور کینیا کے درمیان ایم ایل اے پر دستخط ہو چکا ہے، اس وقت عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ تحقیقات کی نگرانی یا اسے مستقل زیر التوا رکھنا ملزم کے حقوق اور شفافیت کے منافی ہے۔

وفاقی آئینی عدالت نے بین الاقوامی فورمز پر جانے کا معاملہ حکومت کی صوابدید اور خارجہ پالیسی پر چھوڑ دیا اور کہا کہ خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی اب تک کی کارروائی پر کسی فریق نے اعتراض نہیں کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ملزمان کی گرفتاری اور پاکستان میں ٹرائل کے لیے بلیک وارنٹس جاری کیے جا چکے ہیں، تحقیقات کی رفتار کینیا کے ساتھ سفارتی ہم آہنگی اور خود مختار ریاستوں کے قوانین کے تابع ہے، ایم ایل اے کے ذریعے فوجداری مقدمے کے حل کے لیے شواہد اکٹھے کرتے ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ ارشد شریف کے قتل کے معاملے کو عالمی فورمز پر اٹھانے کی بات کی گئی، آئین یا آرٹیکل 40 کہتا ہے کہ ریاست اقوام کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرے گی، وفاقی آئینی عدالت کا وفاقی حکومت کو معاملہ عالمی فورم پر اٹھانے کی ہدایت کرنا تفتیش میں مداخلت اور خارجہ پالیسی میں مداخلت کے مترادف ہوگا۔

وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ بلاشبہ بین الاقوامی تعلقات بہتر انداز میں وزارت خارجہ اور وفاقی حکومت چلا سکتی ہے لہٰذا ہم یہ معاملہ وفاقی حکومت کے سپرد کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف کہا کہ

پڑھیں:

نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا

وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللّٰہ نے کہا ہے کہ نواز شریف گلگت بلتستان کے الیکشن کمیشن سے این او سی لیکر وہاں گئے تھے، کوئی حکومتی وزیر گلگت بلتستان نہیں گیا نہ کسی نے وہاں مہم چلائی۔

پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر خان گلگت بلتستان میں جلسے کر رہے ہیں، میٹنگز کر رہے ہیں انہیں تو کوئی نہیں روک رہا۔

رانا ثنا نے کہا کہ اگر بیرسٹر گوہر خان اجازت لیکر جا سکتے ہیں تو سلمان اکرام راجا کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کا کوئی اُمیدوار مقابلے میں ہے ہی نہیں، وہاں صاف، شفاف اور کریڈیبل انتخابات ہونگے۔


متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا