تھائی لینڈ: جنگلی ہاتھی کے حملے میں ایک سیاح ہلاک، خاتون بچا لی گئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تھائی لینڈ کے مشہور کھاؤ یائی نیشنل پارک میں ایک جنگلی ہاتھی نے سیاح جوڑے پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ایک مرد سیاح ہلاک ہو گیا جبکہ اس کی اہلیہ کو محفوظ نکال لیا گیا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ تھائی لینڈ کے صوبے لوپ بوری کے سیاحتی علاقے میں پیش آیا، جہاں جوڑا اپنے خیمے کے قریب ورزش کے لیے نکلا تھا، اچانک ان کا سامنا ایک بڑے جنگلی ہاتھی سے ہو گیا جس نے انہیں سونڈ میں دبوچ کر زمین پر گھسیٹنا شروع کر دیا۔ مرد سیاح شدید زخمی ہونے کے بعد ہاتھی کے قدموں تلے آ کر موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ پارک کے سیکیورٹی اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچے اور خاتون سیاح کو ہاتھی کے چنگل سے آزاد کرایا۔ مرد سیاح کی میت اسپتال منتقل کی گئی اور بعد ازاں اسے آبائی وطن روانہ کر دیا گیا۔
پارک حکام کے مطابق ہاتھی جس کا نام پلائی اوئی وان ہے، اس سے قبل بھی دو افراد کی ہلاکت میں ملوث رہا ہے، امکان ہے کہ یہی ہاتھی دیگر نامعلوم ہلاکتوں کا بھی ذمہ دار ہو سکتا ہے، یہ ہاتھی اس وقت جارحانہ رویہ اختیار کر لیتا ہے جب مرد ہاتھی میں جنسی ہارمونز کی سطح بڑھ جاتی ہے، جس سے اس کا مزاج بدمزاج ہو جاتا ہے۔
تھائی لینڈ میں جنگلی ہاتھیوں کے انسانوں پر حملے ایک مستقل مسئلہ بن چکے ہیں۔ محکمہ نیشنل پارکس، وائلڈ لائف اینڈ پلانٹ کنزرویشن کے مطابق 2012 سے اب تک 220 سے زائد افراد جنگلی ہاتھیوں کے حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
پارک حکام نے اعلان کیا ہے کہ جمعے (6 فروری) کو ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں اس خطرناک ہاتھی کے لیے آئندہ کا فیصلہ کیا جائے گا۔ امکان ہے کہ اسے پارک کے دور دراز علاقے میں منتقل کیا جائے یا جارحانہ رویے میں تبدیلی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا جائے گا کہ ہاتھی کو محفوظ طریقے سے ہٹایا جائے یا دیگر انتظامی اقدامات کیے جائیں۔
یاد رہے کہ کھاؤ یائی نیشنل پارک تھائی لینڈ کے قدیم اور مشہور ترین پارکس میں سے ایک ہے، جو نہ صرف جنگلی حیات کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے بلکہ سیاحوں کی پسندیدہ جگہ بھی ہے، جہاں جنگلی ہاتھیوں کی نقل و حرکت معمول کے مطابق جاری رہتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنگلی ہاتھی تھائی لینڈ ہاتھی کے کیا جائے کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔