ارشد شریف قتل کیس: وفاقی آئینی عدالت نے ازخود نوٹس نمٹا دیا، تفصیلی فیصلہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس میں محفوظ فیصلہ سنا دیا اور کہا کہ پاکستان اور کینیا کی حکومتیں مناسب اقدامات کر رہی ہیں، اس لیے عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔ عدالت کے دو رکنی بینچ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان نے کیس کی سماعت کے بعد ازخود نوٹس اور تمام متعلقہ درخواستیں نمٹا دی ہیں۔
جسٹس عامر فاروق کے تحریر کردہ 14 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور کینیا کے درمیان مجوزہ مجرمانہ تعاون معاہدہ (ایم ایل اے) پر دستخط ہو چکے ہیں اور اس وقت عدالتی مداخلت مناسب نہیں۔ عدالت نے کہا کہ ارشد شریف کے قتل پر صحافتی برادری اور پاکستانی عوام کا دکھ سمجھتے ہیں اور ورثا کسی بھی معاملے پر متعلقہ عدالتوں سے رجوع کر سکتے ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ تحقیقات کی نگرانی یا اسے مستقل زیر التوا رکھنا ملزمان کے حقوق اور شفافیت کے اصولوں کے منافی ہوگا۔ عدالت نے بین الاقوامی فورمز پر جانے کے معاملے کو وفاقی حکومت اور وزارت خارجہ کے صوابدید پر چھوڑ دیا اور کہا کہ خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی کارروائی پر کسی فریق نے اعتراض نہیں کیا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ملزمان کی گرفتاری اور پاکستان میں ٹرائل کے لیے بلیک وارنٹس جاری کیے جا چکے ہیں اور تحقیقات کی رفتار کینیا کے ساتھ سفارتی ہم آہنگی اور خودمختار ریاستوں کے قوانین کے تابع ہے۔ ایم ایل اے کے ذریعے فوجداری مقدمے کے حل کے لیے شواہد جمع کیے جا رہے ہیں۔
عدالت نے بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے کہا کہ آئین کی رو سے ریاست اقوام کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرے گی، اور وفاقی آئینی عدالت کا وفاقی حکومت کو معاملہ عالمی فورم پر اٹھانے کا حکم دینا تفتیش اور خارجہ پالیسی میں مداخلت کے مترادف ہوگا۔ اس لیے یہ معاملہ مکمل طور پر وفاقی حکومت کے سپرد کیا گیا ہے۔
فیصلے میں بتایا گیا کہ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس محمد علی مظہر کی رائے پر ازخود نوٹس لیا تھا اور مشترکہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے مقتول کے قریبی متعدد افراد کے بیانات ریکارڈ کیے۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ ارشد شریف نے ملک چھوڑنے کے بعد کیا اقدامات کیے، تاہم تفتیش متاثر نہ ہونے کے لیے تفصیل میڈیا کے لیے جاری نہیں کی گئی۔
فیصلے کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور کینیا کے صدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا، جس میں کیس کے سلسلے میں بات چیت کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وفاقی آئینی عدالت ارشد شریف عدالت نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔