راولپنڈی:

اڈیالہ روڈ پر بانی پاکستان تحریکِ انصاف کی بہنوں کی جانب سے دیا گیا دھرنا ختم کر دیا گیا۔ دھرنا ماربل فیکٹری ناکے کے مقام پر جاری تھا، جہاں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ اور نورین نیازی موجود تھیں۔

ذرائع کے مطابق دھرنے میں صرف 10 سے 15 افراد شریک تھے جبکہ پاکستان تحریکِ انصاف کی مرکزی قیادت کا کوئی بھی رہنماء موقع پر موجود نہیں تھا۔

دھرنے کے باعث اڈیالہ روڈ پر ٹریفک معمول کے مطابق چلتی رہی اور کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔

مزید پڑھیں

راولپنڈی، پولیس سے کامیاب مذاکرات کے بعد بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کا دھرنا ختم

فیکٹری ناکہ پر پولیس آپریشن، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کا دھرنا ختم

پولیس کی بھاری نفری موقع پر تعینات رہی۔ بعد ازاں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان حسین اخونزادہ اور خالد یوسف چوہدری دھرنے میں پہنچے، ذرائع کے مطابق دونوں رہنما محمود اچکزئی کا خصوصی پیغام لے کر پہنچے تھے۔

علیمہ خان  حسین اخونزادہ اور خالد یوسف چوہدری سے بات چیت کے بعد دھرنا ختم کرنے پر رضامند ہو گئیں، جس کے بعد دھرنا باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق علیمہ خان کی گاڑی منگوا لی گئی تھی اور وہ کچھ دیر بعد چند کارکنان کے ہمراہ اڈیالہ روڈ سے واپس روانہ ہو گئیں۔ علیمہ خان دھرنا ختم ہونے کے بعد گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوئیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حقیقی جمہوریت کی تلاش اڈیالہ روڈ علیمہ خان کی بہنوں کے مطابق کے بعد

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف