اڈیالہ روڈ پر بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کا دھرنا ختم، علیمہ خان واپس روانہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
راولپنڈی:
اڈیالہ روڈ پر بانی پاکستان تحریکِ انصاف کی بہنوں کی جانب سے دیا گیا دھرنا ختم کر دیا گیا۔ دھرنا ماربل فیکٹری ناکے کے مقام پر جاری تھا، جہاں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ اور نورین نیازی موجود تھیں۔
ذرائع کے مطابق دھرنے میں صرف 10 سے 15 افراد شریک تھے جبکہ پاکستان تحریکِ انصاف کی مرکزی قیادت کا کوئی بھی رہنماء موقع پر موجود نہیں تھا۔
دھرنے کے باعث اڈیالہ روڈ پر ٹریفک معمول کے مطابق چلتی رہی اور کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔
مزید پڑھیںراولپنڈی، پولیس سے کامیاب مذاکرات کے بعد بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کا دھرنا ختم
فیکٹری ناکہ پر پولیس آپریشن، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کا دھرنا ختم
پولیس کی بھاری نفری موقع پر تعینات رہی۔ بعد ازاں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان حسین اخونزادہ اور خالد یوسف چوہدری دھرنے میں پہنچے، ذرائع کے مطابق دونوں رہنما محمود اچکزئی کا خصوصی پیغام لے کر پہنچے تھے۔
علیمہ خان حسین اخونزادہ اور خالد یوسف چوہدری سے بات چیت کے بعد دھرنا ختم کرنے پر رضامند ہو گئیں، جس کے بعد دھرنا باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق علیمہ خان کی گاڑی منگوا لی گئی تھی اور وہ کچھ دیر بعد چند کارکنان کے ہمراہ اڈیالہ روڈ سے واپس روانہ ہو گئیں۔ علیمہ خان دھرنا ختم ہونے کے بعد گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حقیقی جمہوریت کی تلاش اڈیالہ روڈ علیمہ خان کی بہنوں کے مطابق کے بعد
پڑھیں:
حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
فائل فوٹوپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق حیسکو کے ڈی ڈی او، ایکسیئن اور سی ایف او آفس کی ملی بھگت سے خرد برد کی گئی۔
سی ای او حیسکو کے مطابق اس کیس میں چار ملازمین کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ تین اکاؤنٹس افسران، ایک فنانس افسر کو نوکری سے نکالا گیا۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس کیس کے 5 مقدمات درج کیے گئے، 130 سے زائد افراد ملوث تھے، اب تک صرف 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔