data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260204-08-9
اسلام آباد(مانیٹر نگ ڈ یسک )وفاقی وزیرِ خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے مسلسل زمینی سطح پر موجودگی اور اعلیٰ قیادت کی شمولیت کو پاکستان کے ساتھ اعتماد سازی اور رفتار پیدا کرنے کے لیے نہایت اہم قرار دے دیا۔وزارتِ خزانہ میں سٹی بینک کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان ماضی میں عالمی بینکوں کے لیے ایک اہم مارکیٹ رہا ہے اور اس ورثے کو مستحکم، مسلسل اور اصلاحات سے ہم آہنگ تعاون کے ذریعے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ملاقات میں خودمختار مالیاتی انتظامات، عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کی موجودگی اور مستقبل میں تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔بینک کے وفد کی قیادت کنٹری آفیسر حبیب یوسف نے کی جبکہ ان کے ساتھ کارپوریٹ بینکنگ کے سربراہ مسٹر علی ثناء رضوی اور نائب صدر مسٹر اسامہ پراچہ بھی موجود تھے۔ ملاقات میں وزارتِ خزانہ کی وہ کور ٹیم بھی شریک تھی جو قرضہ مینجمنٹ، کیپیٹل مارکیٹس اور متعلقہ پالیسی امور کی نگرانی کرتی ہے۔اجلاس کے دوران وزارتِ خزانہ کی ٹیم نے موجودہ عالمی مالیاتی حالات اور پاکستان کی بیرونی فنانسنگ سے متعلق مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی۔ گفتگو میں پاکستان کے بین الاقوامی بانڈز کی حالیہ کارکردگی، بیرونی قرضہ جات سے متعلق حکومتی حکمتِ عملی، مارکیٹ ٹائمنگ اور قیمتوں کے تعین جیسے اہم پہلوؤں پر تفصیل سے بات کی گئی۔اس بات پر زور دیا گیا کہ مستقبل کی کسی بھی مالیاتی سرگرمی کو قرضوں کے پائیدار انتظام اور کم لاگت کے حکومتی اہداف سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔وفد کو آگاہ کیا گیا کہ حکومت خودمختار فنانسنگ پروگرامز پر پیشگی تیاری کر رہی ہے جن میں مڈ ٹرم نوٹ اسٹرکچرز سے متعلق ابتدائی کام شامل ہے تاہم فوری توجہ اس وقت جاری ترجیحی مالیاتی معاملات کی تکمیل پر مرکوز ہے۔بتایا گیا کہ ضروری داخلی منظوریوں اور ساختی بنیادوں پر کام مکمل کیا جا چکا ہے اور مناسب مارکیٹ حالات اور قیمتوں کے تناظر میں عالمی منڈی سے رجوع کرنے پر غور کیا جائے گا۔ملاقات میں سرمایہ کاروں سے رابطہ کاری کی حکمتِ عملی پر بھی بات ہوئی۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ملاقات میں

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم