پاکستان ماضی میں عالمی بینکوں کیلیے ایک اہم مارکیٹ رہا ہے، محمد اورنگزیب
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260204-08-9
اسلام آباد(مانیٹر نگ ڈ یسک )وفاقی وزیرِ خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے مسلسل زمینی سطح پر موجودگی اور اعلیٰ قیادت کی شمولیت کو پاکستان کے ساتھ اعتماد سازی اور رفتار پیدا کرنے کے لیے نہایت اہم قرار دے دیا۔وزارتِ خزانہ میں سٹی بینک کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان ماضی میں عالمی بینکوں کے لیے ایک اہم مارکیٹ رہا ہے اور اس ورثے کو مستحکم، مسلسل اور اصلاحات سے ہم آہنگ تعاون کے ذریعے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ملاقات میں خودمختار مالیاتی انتظامات، عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کی موجودگی اور مستقبل میں تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔بینک کے وفد کی قیادت کنٹری آفیسر حبیب یوسف نے کی جبکہ ان کے ساتھ کارپوریٹ بینکنگ کے سربراہ مسٹر علی ثناء رضوی اور نائب صدر مسٹر اسامہ پراچہ بھی موجود تھے۔ ملاقات میں وزارتِ خزانہ کی وہ کور ٹیم بھی شریک تھی جو قرضہ مینجمنٹ، کیپیٹل مارکیٹس اور متعلقہ پالیسی امور کی نگرانی کرتی ہے۔اجلاس کے دوران وزارتِ خزانہ کی ٹیم نے موجودہ عالمی مالیاتی حالات اور پاکستان کی بیرونی فنانسنگ سے متعلق مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی۔ گفتگو میں پاکستان کے بین الاقوامی بانڈز کی حالیہ کارکردگی، بیرونی قرضہ جات سے متعلق حکومتی حکمتِ عملی، مارکیٹ ٹائمنگ اور قیمتوں کے تعین جیسے اہم پہلوؤں پر تفصیل سے بات کی گئی۔اس بات پر زور دیا گیا کہ مستقبل کی کسی بھی مالیاتی سرگرمی کو قرضوں کے پائیدار انتظام اور کم لاگت کے حکومتی اہداف سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔وفد کو آگاہ کیا گیا کہ حکومت خودمختار فنانسنگ پروگرامز پر پیشگی تیاری کر رہی ہے جن میں مڈ ٹرم نوٹ اسٹرکچرز سے متعلق ابتدائی کام شامل ہے تاہم فوری توجہ اس وقت جاری ترجیحی مالیاتی معاملات کی تکمیل پر مرکوز ہے۔بتایا گیا کہ ضروری داخلی منظوریوں اور ساختی بنیادوں پر کام مکمل کیا جا چکا ہے اور مناسب مارکیٹ حالات اور قیمتوں کے تناظر میں عالمی منڈی سے رجوع کرنے پر غور کیا جائے گا۔ملاقات میں سرمایہ کاروں سے رابطہ کاری کی حکمتِ عملی پر بھی بات ہوئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملاقات میں
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔