وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے مزمل اسلم کی ملاقات ، جائز مالی مطالبات کے حصول میں مکمل تعاون کی یقین دہانی WhatsAppFacebookTwitter 0 3 February, 2026 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس )وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وزارتِ خزانہ این ایف سی اور دیگر متعلقہ مدات کے تحت خیبر پختونخوا کے جائز مالی مطالبات کے حصول میں مکمل تعاون فراہم کرے گی تاہم تمام اقدامات طے شدہ طریقہ کار، قواعد و ضوابط اور شفاف عمل کے مطابق ہوں گے۔وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ یقین دہانی انہوں نے وزارتِ خزانہ میں ملاقات کے لیے آئے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلی کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم سے گفتگو کرتے ہوئے کروائی ہے۔

ملاقات میں وزارتِ خزانہ اور حکومتِ خیبر پختونخوا کے سینیئر حکام بھی شریک تھے۔ملاقات کے دوران مالی اور ترقیاتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں بالخصوص ضم شدہ اضلاع کے لیے ترقیاتی مدات کے تحت فنڈز کی بروقت فراہمی، عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی سے متعلق واجبات، اور قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی)سمیت صوبائی حصص و الاٹمنٹس کے معاملات شامل تھے۔خیبر پختونخوا کے وفد نے ضم شدہ اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی ضروریات پر روشنی ڈالتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ فنڈز کی بروقت اور قابلِ پیش گوئی فراہمی نہایت اہم ہے تاکہ زمینی سطح پر جاری اسکیموں کو موثر انداز میں جاری رکھا جا سکے۔وفد نے بے گھر خاندانوں سے متعلق زیر التوا مالی ذمہ داریوں اور دیگر وابستہ امور کی جانب بھی توجہ دلائی جن کے حل کے لیے بہتر رابطہ اور ہم آہنگی ضروری ہے۔وفاقی وزیرِ خزانہ نے خیبر پختونخوا کے وفد کے نکات بغور سنے اور وفاقی حکومت کی جانب سے صوبوں کے ساتھ تعاون، باہمی مشاورت اور مضبوط وفاقی ہم آہنگی کے عزم کا اعادہ کیا۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے یقین دہانی کروائی کہ وزارتِ خزانہ این ایف سی اور دیگر متعلقہ مدات کے تحت خیبر پختونخوا کے جائز مالی مطالبات کے حصول میں مکمل تعاون فراہم کرے گی تاہم تمام اقدامات طے شدہ طریقہ کار، قواعد و ضوابط اور شفاف عمل کے مطابق ہوں گے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فنڈز کے شفاف اور ہموار اجرا کے لیے بروقت اکاونٹس کی مفاہمت اور موثر رابطہ ناگزیر ہے جبکہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا خصوصا ضم شدہ اضلاع کو درپیش ترقیاتی اور سیکیورٹی چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہے۔ملاقات میں این ایف سی سے متعلق جاری مشاورت اور تکنیکی سطح پر ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، اور اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ ذیلی کمیٹیوں اور تکنیکی فورمز پر رابطے کا تسلسل برقرار رکھا جائے تاکہ اہم معاملات پر اتفاقِ رائے کو آگے بڑھایا جا سکے۔دونوں فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ باہمی رابطہ اور تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ زیر التوا امور کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا سکے اور مالی انتظامات ترقی، عوامی خدمات اور استحکام کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوں۔ملاقات خوش گوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی جس میں قومی مفاد میں مسائل کے بروقت حل کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا گیا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے چینی سفیر کی ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے چینی سفیر کی ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال پاکستان اور لیبیا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کینڈین ہائی کمشنر کی وزیرمواصلات سے ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق قیدی کو گفتگو سے کوئی نہیں روک سکتا، پابندی کا جیل رول بھی غیر آئینی ہے، سلمان اکرم راجا عمران خان نے خود پمز اسپتال سے علاج کروانے کی خواہش کا اظہار کیا، اعظم نذیر تارڑ اسرائیلی فوج میں پہلی بار ایک مسلم خاتون افسر کو عربی ترجمان مقرر TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: جائز مالی مطالبات کے حصول میں مکمل تعاون خیبر پختونخوا کے محمد اورنگزیب یقین دہانی وفاقی وزیر ایف سی کی ملاقات پر اتفاق کے لیے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن