روس کا امریکا سے وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کی رہائی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260204-08-13
ماسکو(مانیٹر نگ ڈ یسک ) روس نے امریکا سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ روس وینزویلا کی حکومت کی جانب سے اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کی کوششوں کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا، روس نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ وینزویلا کے ساتھ قریبی اور ہمہ جہت تعاون جاری رکھے گا۔روسی وزارتِ خارجہ نے امریکا کی قیادت پر زور دیا کہ وہ وینزویلا کے قانونی طور پر منتخب صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو رہا کرے۔روسی بیان کے مطابق 3 جنوری کو امریکا نے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں شہری اور فوجی اہداف پر حملے کیے، جنہیں وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان گل پنٹو نے کھلی فوجی جارحیت قرار دیا، ان حملوں کے بعد وینزویلا میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے، بعد ازاں 5 جنوری کو دونوں کو نیویارک کے جنوبی ضلع کی وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں ان پر منشیات کی سمگلنگ سے متعلق الزامات عائد کیے گئے، صدر مادورو اور ان کی اہلیہ نے تمام الزامات کی تردید کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مادورو اور ان کی اہلیہ وینزویلا کے
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔