سندھ میں تعلیمی بحران کا خدشہ ، اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس نہ ہوسکا ، طلبہ کا مستقبل دائو پر لگ گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (رپورٹ: حماد حسین ) محکمہ تعلیم کی لاپروائی کے باعث سندھ میں میٹرک اور انٹر کے امتحانات میں تاخیر کا خدشہ‘ نیا تعلیمی سال بھی متاثر ہونے کاخدشہ‘ سندھ کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس جنوری گزرنے کے باوجود نہیں بلایا جاسکا‘ چندروزبعد رمضان المبارک اور پھر عید نے صورتحال کو پیچیدہ بنادیا ہے‘ والدین‘ طلبہ اور اسکولوں کی انتظامیہ پریشانی کا شکار۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم کی لاپروائی کے باعث سندھ کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس فروری شروع ہونے کے باوجود نہیں بلایا جاسکا، جس کے باعث صوبے کا تعلیمی نظام ایک بار پھر بے یقینی کا شکار ہو گیا ہے۔ روایت کے برعکس جنوری کا مہینہ گزرنے کے باوجود تاحال اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس نہیںہو سکا، جس کی وجہ سے نویں اور دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات کا شیڈول کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔ذرائع کے مطابق، ہر سال جنوری کے وسط تک اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں پورے سال کا تعلیمی کیلنڈر، موسمِ گرما و سرما کی تعطیلات اور امتحانات کی حتمی تاریخوں کی منظوری دی جاتی ہے، تاہم رواں سال اس اہم بیٹھک میں غیر معمولی تاخیر دیکھی جا رہی ہے۔ اس انتظامی سستی کے نتیجے میں کراچی سمیت سندھ بھر کے تعلیمی بورڈز تاحال امتحانی ڈیٹ شیٹ جاری کرنے سے قاصر ہیں، جس نے لاکھوں طلبہ اور اساتذہ کو ذہنی تناؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ تعلیمی ماہرین اور نجی اسکولز مالکان کا کہنا ہے کہ اگر فروری کے پہلے عشرے میں بھی اجلاس نہ ہوا تو امتحانات مئی کے بجائے جون یا جولائی کی شدید گرمی میں منتقل ہو سکتے ہیں، جس سے نہ صرف طلبہ کی صحت متاثر ہوگی بلکہ نیا تعلیمی سیشن بھی وقت پر شروع نہیں ہو سکے گا۔ والدین نے وزیر اعلیٰ سندھ اور وزیرِ تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ اسٹینڈنگ کمیٹی کو فوری فعال کیا جائے اور ہنگامی بنیادوں پر اجلاس بلا کر تعلیمی کیلنڈر کا اعلان کیا جائے تاکہ طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچ سکے۔دوسری جانبچیئرمین آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن حیدرعلی نے اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں تاخیر پر شدیدتشویش کااظہار کرتے ہوئے ‘ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور صوبائی وزیرتعلیم سردار علی شاہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہاں اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ تعلیمی سال کے آخری تین ماہ میں بورڈز، اساتذہ اور طالبعلموں کے لیے نئے طریقہ کار کے مطابق خود کو تیار کرنا بہت مشکل ہے۔ نظر ثانی شدہ نئی گریڈینگ پالیسی کا خیرمقدم کرتے ہوئے حیدرعلی نے کہا کہ نویں اور گیارہویں جماعت کے لئے اس پالیسی پر سندھ کے تمام تعلیمی بورڈز فوری طور پر ایک حتمی فیصلے کا اعلان کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس
پڑھیں:
عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔
اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔
ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔
مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت