WE News:
2026-06-02@22:40:22 GMT

جب کھیل ضمیر کے سامنے ہار مان لیتا ہے

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT

جب کھیل ضمیر کے سامنے ہار مان لیتا ہے

پاکستان کا بھارت کے خلاف ٹی20 ورلڈ کپ میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کسی جذباتی یا وقتی ردِعمل کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک اصولی اور اخلاقی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ فیصلہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب عالمی کرکٹ طاقت، اقربا پروری اور مالی مفادات کے زیرِ اثر آ جائے، تو کسی نہ کسی کو کھڑے ہو کر’نہیں’ کہنا پڑتا ہے، چاہے اس کی قیمت مالی نقصان یا دباؤ کی صورت میں ہی کیوں نہ ادا کرنا پڑے۔

تاریخ گواہ ہے کہ قومیں وقتی فائدے نہیں بلکہ اصولی قربانیوں سے زندہ رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا یہ مؤقف اسکور بورڈ سے زیادہ تاریخ کے صفحات پر اہمیت رکھتا ہے۔

کیا اسپورٹس بائیکاٹ کوئی نئی بات ہے؟

اس سوال کا جواب تاریخ چیخ چیخ کر دیتی ہے۔ 1960 اور 70 کی دہائی میں جنوبی افریقہ کو اپارتھائیڈ (نسلی امتیاز) کی پالیسیوں کے باعث کرکٹ، فٹبال، اولمپکس سمیت تقریباً ہر عالمی کھیل سے باہر کر دیا گیا تھا۔ اس وقت بھی یہی دلیل دی جاتی رہی کہ “کھیل کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے”، مگر دنیا نے واضح فیصلہ کیا کہ انسانی وقار، کھیل سے کہیں بڑا ہے۔

اسی طرح 2022 کے بعد روسی ٹیموں پر فٹبال، اولمپکس، ٹینس اور دیگر کھیلوں میں پابندیاں عائد کی گئیں۔ فیفا اور آئی او سی نے اگرچہ کھل کر سیاسی مؤقف اختیار نہیں کیا، مگر عملی طور پر کھیل کو سیاسی فیصلوں کے تابع کر دیا گیا۔

سوال یہ ہے کہ اگر روس پر پابندیاں “درست” تھیں، تو پاکستان کا اصولی انکار ’غلط‘ کیوں؟

اسرائیل کا خاموش بائیکاٹ اور دوہرا معیار

اسپورٹس میں خاموش بائیکاٹ کی ایک اور مثال اسرائیل سے متعلق ہے۔ معروف صحافی سید کوثر نقوی کے مطابق اگرچہ اسرائیل پر کوئی مکمل عالمی بائیکاٹ عائد نہیں ہوا، مگر کئی عرب اور مسلم ممالک نے دہائیوں تک اسرائیلی ٹیموں کے خلاف مقابلے کھیلنے سے انکار کیا۔ حتیٰ کہ انفرادی سطح پر بھی کھلاڑیوں نے میچ کھیلنے سے گریز کیا، لیکن کسی عالمی ادارے نے انہیں “غیر اخلاقی” قرار نہیں دیا۔

تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کے اصولی فیصلے کو نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟

یہاں سب سے بڑی منافقت کھل کر سامنے آتی ہے۔ بھارت نے سیاسی بنیادوں پر پاکستان کے خلاف دوطرفہ کرکٹ برسوں سے بند کر رکھی ہے۔ اس کے باوجود نہ آئی سی سی نے کوئی جرمانہ عائد کیا، نہ پوائنٹس کٹوتی ہوئی، اور نہ ہی کسی ضابطے کی خلاف ورزی کا شور مچایا گیا۔

مگر آج جب پاکستان ایک اخلاقی مؤقف اختیار کرتا ہے، تو آئی سی سی کو اچانک ’قانون‘ اور ’قواعد‘ یاد آ جاتے ہیں۔

آئی سی سی کا اصل مسئلہ: اصول نہیں، پیسہ

حقیقت یہ ہے کہ آئی سی سی کی آمدنی بھارتی مارکیٹ سے جڑی ہوئی ہے۔ براڈکاسٹنگ رائٹس اور اسپانسرشپ میں بھارت فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ بی سی سی آئی کی مرضی کے بغیر، مبالغہ نہیں تو حقیقتاً، پتا بھی نہیں ہلتا۔

اسی لیے ناقدین کے مطابق آئی سی سی ایک غیر جانبدار عالمی ادارہ نہیں رہا، بلکہ بھارتی مفادات کی فرنچائز بنتا جا رہا ہے، جہاں اصول ثانوی اور منافع اولین ترجیح ہے۔

کیا پاکستان کو ڈٹ جانا چاہیے؟

سپورٹس کے ماہرین اور سینئر صحافیوں کی رائے میں پاکستان کو اس فیصلے پر قائم رہنا چاہیے، چاہے اس کی قیمت کچھ بھی کیوں نہ ہو۔ معروف سینئر صحافی وسیم عباسی کے مطابق یہ وہ مقام ہے جہاں قوموں کا اصل امتحان ہوتا ہے۔ ممکن ہے جرمانہ ہو، مالی نقصان اٹھانا پڑے یا دباؤ بڑھے، مگر کوئی نہ کوئی تو اقربا پروری کے نظام کے سامنے کھڑا ہو کر طاقتور کو “نہیں” کہے۔

اگر آج پاکستان پیچھے ہٹ گیا، تو کل ہر چھوٹی قوم خاموش ہو جائے گی۔ تاریخ میچ نہیں، مؤقف یاد رکھتی ہے۔

وقتی ہار یا دائمی جیت؟

نیشنل پریس کلب کے سیکریٹری جنرل اور اسلام آباد کے معروف صحافی اصف بشیر چوہدری کے مطابق ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف نہ کھیلنے کے فیصلے نے قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔ نقصانات ضرور ہوں گے، مگر بعض اوقات ہارنا ہی اصل جیت بن جاتا ہے، بشرطیکہ ضمیر زندہ ہو۔

اگر پاکستان اپنے مؤقف پر ڈٹا رہا تو وہ ایک میچ نہیں، بلکہ آئی سی سی کے نیپوٹزم، دوہرے معیار اور طاقت کے نشے کو بے نقاب کر دے گا۔ یہ فیصلہ اسکور بورڈ پر نہیں، تاریخ کے صفحوں پر لکھا جائے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عبید الرحمان عباسی

سینئر قانون دان کالم نگار اور فری لانس جرنلسٹ ہیں۔

بھارت پاکستان ٹی 20 ورلڈ کپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت پاکستان ٹی 20 ورلڈ کپ کے مطابق کے خلاف

پڑھیں:

سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان

(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن عامہ کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلۂ خیال

سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔

مایوسی کا دور ختم ، ہم ایک ماہ میں پوسٹ حج آپریشن کامیابی سے مکمل کریں گے: کنٹری منیجر ظہیرالدین آغا

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔

 بری طرح تھکا ہوا تھا، خستہ حال بے خوابی سے بوجھل سوجی آنکھوں میں نیند کی شدت کا درد، آتے ہی چارپائی پر ایسا گرا کہ شام تک ہوش ہی نہیں آیا

مزید :

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا