بلوچستان میں پاک افواج زندہ باد ریلی کا انعقاد، ہزاروں افراد کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
کوئٹہ:
بلوچستان کے ضلع بارکھان میں ایک عظیم الشان پاکستان زندہ باد اور پاک افواج زندہ باد ریلی کا انعقاد کیا گیا جس کی قیادت صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھیتران نے کی۔
ریلی میں ہزاروں کی تعداد میں مقامی عوام نے شرکت کی اور ہاتھوں میں پاکستان کے سبز ہلالی پرچم لہراتے ہوئے وطن عزیز اور مسلح افواج کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا۔
ریلی بارکھان سے شروع ہوئی اور رکھنی تک پہنچی جہاں صوبائی وزیر سردار عبدالرحمٰن کھیتران نے ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ پاکستان ہمارا وطن ہے اور اس کے دفاع اور سلامتی کے لیے ضلع بارکھان کے عوام صف اوّل میں کھڑے ہیں۔ پاک افواج کے جوان ہماری عزت اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں اور پوری قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مٹھی بھر دہشت گرد اپنے مکروہ عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ پوری قوم کو اپنی افواج پر فخر ہے اور اب ہم سب کو مل کر پاک افواج اور حکومت کے ہاتھ مزید مضبوط کرنے ہیں تاکہ آخری دہشت گرد کو بھی اس پاک سرزمین سے صاف کیا جا سکے۔
سردار عبدالرحمن کھیتران نے رکھنی کی تاریخی پہچان پر بھی بات کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ رکھنی کو حال ہی میں ڈویژن کا درجہ ملنے پر خوشی ہے کیونکہ اس سے علاقے میں ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے لیکن نام کی تبدیلی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ رکھنی کو کوہ سلیمان نہیں بلکہ رکھنی ڈویژن ہی ہونا چاہیے۔ یہ صدیوں پرانی پہچان ہے، دو سو سال سے رکھنی کے نام سے جانی جاتی ہے اور آئندہ بھی یہی نام رہے گا۔
انہوں نے بارکھان اور کھیتران قوم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ہر مشکل گھڑی اور انتخابات میں ان پر اعتماد کیا، میرا جینا مرنا اپنی قوم کے ساتھ ہے، اور بارکھان کی ترقی و خوشحالی میرا اولین مشن ہے۔ مخالفین کے پروپیگنڈے کا جواب ہم اپنے عمل سے دیں گے، جلسہ کے اختتام پر صوبائی وزیر نے موجود ہزاروں افراد سے ملک کی سلامتی اور پاک افواج کی حمایت کا عہد لیا جس پر سب نے لبیک کہہ کر اپنا عزم ظاہر کیا۔
انہوں نے یقین دلایا کہ بارکھان کی خوشحالی کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی اور کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ یہ ریلی نہ صرف بارکھان بلکہ پورے بلوچستان سے ایک واضح پیغام ہے کہ صوبے کے عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، دہشت گردی کے خلاف ہیں اور اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔