پاکستان اور قازقستان دوطرفہ تجارت کو 1 ارب ڈالر تک لے جانے کیلئے پرعزم
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
پاکستان اور قازقستان دوطرفہ تجارت کو 1 ارب ڈالر تک لے جانے کیلئے پرعزم WhatsAppFacebookTwitter 0 4 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد: (آئی پی ایس) پاکستان اور قازقستان نے دوطرفہ تجارت کو ایک سال میں 1 ارب ڈالر تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان مختلف معاہدوں کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اپنے بھائی صدر قازقستان اور ان کے وفد کا خیر مقدم کرتے ہیں، دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کونئی جہت دینے کیلئے بہت اہم ہے، قازقستان کے کسی صدر نے 23 سال بعد پاکستان کا دورہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ صدر قاسم جومارت توکایووف کے ساتھ تعمیری اور مثبت گفتگو ہوئی، طے پانے والی مفاہمتی یادداشتوں اورمعاہدوں کو عملی شکل دینے کیلئے پرعزم ہیں، معاہدوں کے حقیقت کا روپ دھارنے سے معاشی اورث قافتی تعاون میں اضافہ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں امن کی بحالی اور تعمیر نو کیلئے بورڈ آف پیس اہم فورم ہے، دعاگو ہوں کہ غزہ میں مستقل امن ہو اور خوشحالی آئے، پاکستان اورقازقستان غزہ بورڈ آف پیس کے بھی رکن ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں اضافے کے بہت مواقع ہیں، ایک سال میں دوطرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے، صدر قازقستان کیلئے نشان پاکستان کا اعزاز قریبی تعلقات کا عکاس ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مشترکہ کوششوں سے اقتصادی اور تجارتی تعاون کے اہداف حاصل کریں گے، پاکستان اورقازقستان توانائی کے شعبے میں بھی تعاون کومزید فروغ دے سکتے ہیں، شراکت داری کو فروغ دیتے ہوئے تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔
قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف
قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف نے کہا کہ شاندار استقبال اور مہمان نوازی پر حکومت پاکستان اور عوام کا مشکور ہوں، پاکستان قازقستان کا قابل اعتماد شراکت دار ہے، دوست ملک پاکستان کے دورے پر بہت خوشی ہوئی، دونوں ممالک مشترکہ اقداراورروایات کے امین ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ اعلامیہ اور معاہدے دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے اہمیت کے حامل ہیں، دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط بنانے میں وزیراعظم شہبازشریف کا کردار اہم ہے، خطے میں امن وامان کیلئے پاکستان کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دفاع کے شعبے میں بھی پاکستان کی ترقی عالمی سطح پر تسلیم کی جاتی ہے، وزیراعظم شہبازشریف سے بہت مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی، ایک ارب ڈالر کا تجارتی ہدف حاصل کرنے کیلئے مل کر آگے بڑھیں گے، دونوں ممالک کے درمیان تجارت ومعیشت کے شعبے میں تعاون کو فروغ مل رہا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان 37 معاہدوں پر دستخط
قبل ازیں پاکستان اور قازقستان میں مختلف شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی، وزیراعظم شہبازشریف اور صدر قازقستان تقریب میں موجود تھے، دونوں رہنماؤں نے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کئے۔
پاکستان اور قازقستان کے درمیان کان کنی اور پٹرولیم کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا، دونوں ملکوں کے درمیان اقوام متحدہ کے امن دستوں کے حوالے سے بھی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا۔
پاکستان اور قازقستان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے سے متعلق معاہدے کی دستاویز کا تبادلہ کیا گیا، دونوں ممالک کے درمیان میری ٹائم کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا، ٹرانزٹ ٹریڈ کے معاہدے کی دستاویز کا بھی تبادلہ کیا گیا۔
دونوں ممالک کے درمیان کسٹم کے شعبے میں تعاون سے متعلق معاہدے کی دستاویز کا بھی تبادلہ ہوا، ریلوے کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا بھی تبادلہ کیا گیا۔
پاکستان اور قازقستان کے درمیان پلانٹ پروٹیکشن اور ویٹرنری کے شعبوں میں تعاون اور صحت کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ کیا گیا، دونوں ملکوں کے درمیان مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ترقی کے شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا۔
اس کے علاوہ اے پی پی اور قازقستان کے سرکاری ٹی وی کے درمیان تعاون کا بھی معاہدہ کیا گیا، موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں تعاون کا بھی معاہدہ ہوا، دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت کا بھی تبادلہ کیا گیا۔
مالیاتی نظم ونسق و بینکنگ کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ ہوا، دونوں ملکوں کے درمیان ثقافت کے سبے میں تعاون کا معاہدہ ہوا، لاجسٹک کے شعبے میں بھی تعاون کے معاہدے کی دستاویز کا تبادلہ کیا گیا، دونوں ملکوں کے درمیان ورچوئل اثاثوں کے شعبے اور بندرگاہوں کے شعبے میں تعاون کی دستاویز کا تبادلہ ہوا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایپسٹین اسکینڈل، تازہ دستاویز سامنے آنے پر اینڈریوکو برطانیہ کے شاہی لاج سے نکال دیاگیا ایپسٹین اسکینڈل، تازہ دستاویز سامنے آنے پر اینڈریوکو برطانیہ کے شاہی لاج سے نکال دیاگیا اسحاق ڈار اور قازقستان کے صدر کی ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر زور ایف آئی اے افسران کی معطلی کا معاملہ ، نوٹیفکیشن و تفصیلات سب نیوز پر سی ڈی اے میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے، نوٹیفکیشن سب نیوز پر لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کو قتل کر دیا گیا آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کے بعد امید ہے ایران سے مذاکرات کامیاب ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت کا میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت دونوں ممالک کے درمیان دونوں ملکوں کے درمیان پاکستان اور قازقستان معاہدے کی دستاویز کا کے شعبے میں تعاون کی ارب ڈالر تک لے جانے اور قازقستان کے دوطرفہ تجارت کو تبادلہ کیا گیا کا کہنا تھا کہ کا بھی تبادلہ کیلئے پرعزم نے کہا کہ سب نیوز
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔