روسی تیل پر بھارت کا مؤقف واضح نہیں، کریملن نے ٹرمپ کے دعوے پر سوال اٹھا دیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
روسی ایوانِ صدر کریملن نے واضح کیا ہے کہ اسے بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری روکنے کے حوالے سے کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ کریملن کے مطابق اس معاملے پر نئی دہلی کی طرف سے اب تک کوئی سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے یوکرین جنگ کے تناظر میں روس سے تیل نہ خریدنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اس معاہدے کے تحت بھارت کے ساتھ ٹیرف میں کمی پر اتفاق ہوا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ روس کو اس حوالے سے بھارت کی جانب سے کوئی باضابطہ پیغام موصول نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس تاحال بھارت کے ساتھ توانائی تعاون کو معمول کے مطابق دیکھ رہا ہے۔
فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد مغربی پابندیوں کے نتیجے میں روسی تیل رعایتی قیمتوں پر دستیاب ہوا، جس کے باعث بھارت کی جانب سے روسی تیل کی درآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یوکرین اور اس کے مغربی اتحادی روس کی اس آمدنی کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اس کی جنگی صلاحیت متاثر کی جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی مصنوعات پر عائد ٹیرف کم کر کے 18 فیصد کر دیے گئے ہیں، جبکہ اس سے قبل بعض مصنوعات پر 25 فیصد محصولات عائد تھے۔ اس کے علاوہ روس سے تیل خریدنے پر بھارت پر اضافی محصولات بھی لگائے گئے تھے۔
نریندر مودی نے ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی فون کال اور ٹیرف میں نرمی پر اظہارِ تشکر کیا، تاہم انہوں نے روس سے تیل کی خریداری روکنے سے متعلق کسی دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
اس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پیوٹن 2025 کے اواخر میں بھارت کے دورے کے دوران بھارت کو تیل کی بلا تعطل فراہمی کی یقین دہانی بھی کرا چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: روسی تیل بھارت کے کے ساتھ تیل کی
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ریسکیو 1122 نے صوبے بھر میں اپنی تمام ضلعی ٹیموں کو ہائی الرٹ کردیا ہے۔
ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی کے مطابق خراب موسمی صورتحال کے باعث ضلع بنوں کے مختلف علاقوں میں اب تک 20 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ مردان، پشاور اور دیگر اضلاع میں بھی آندھی اور تیز ہواؤں کے باعث متعدد ایمرجنسی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
پشاور کے مختلف مقامات پر درخت گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں رکاوٹیں ہٹانے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
بلال احمد فیضی نے کہا کہ ریسکیو 1122 کی تمام ضلعی ٹیمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بارش تیز ہوائیں خیبرپختونخوا زخمی وی نیوز