ہارمونل بیماری کے باعث ایک کروڑ پاکستانی خواتین بانجھ پن کا شکار ہو سکتی ہیں، ماہرین صحت کی وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: پاکستان میں تولیدی عمر کی پندرہ سے بیس فیصد خواتین پولی سسٹک اووری سنڈروم کا شکار ہیں، یعنی ملک بھر میں تقریباً اسی لاکھ سے ایک کروڑ خواتین اس ہارمونل مرض کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ پی سی او ایس تیزی سے بڑھتا ہوا مگر بڑی حد تک تشخیص سے محروم رہنے والا ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بن چکا ہے جو نوجوان لڑکیوں اور شادی شدہ خواتین دونوں کو متاثر کر رہا ہے جس کے نتیجے میں بانجھ پن کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
یہ انتباہ لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں “ڈسکورنگ پی سی او ایس” کے عنوان سے شروع کیے گئے ایک آگاہی پروگرام کے موقع پر کیا گیا، جہاں شہر کے بڑے اسپتالوں سے تعلق رکھنے والی سینئر ماہر امراضِ نسواں نے اس مرض کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور بروقت تشخیص و مسلسل آگاہی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
ماہرین کے مطابق پی سی او ایس ایک پیچیدہ ہارمونل اور میٹابولک بیماری ہے جس میں ماہواری کی بے قاعدگی یا بندش، جسم میں مردانہ ہارمونز کی زیادتی، وزن میں اضافہ، کیل مہاسے، چہرے یا جسم پر غیر ضروری بالوں کی افزائش اور بیضہ دانی میں رسولیاں بن جانا شامل ہیں۔
ماہرین نے بتایا کہ پی سی او ایس اب امراضِ نسواں کے کلینکس میں سامنے آنے والی عام ہارمونل بیماریوں میں شامل ہو چکا ہے، خاص طور پر نوعمر اور نوجوان خواتین میں اس کے کیسز زیادہ دیکھے جا رہے ہیں، مگر سماجی جھجک، لاعلمی اور ماہر ڈاکٹروں تک محدود رسائی کے باعث بڑی تعداد میں مریضات برسوں تک تشخیص کے بغیر رہتی ہیں۔
اگرچہ پاکستان میں پی سی او ایس کا کوئی قومی ریکارڈ موجود نہیں، تاہم اسپتالوں کے اعداد و شمار اور علاقائی مطالعات سے یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ تولیدی عمر کی پندرہ سے بیس فیصد خواتین اس مسئلے سے متاثر ہو سکتی ہیں۔
ڈاکٹروں نے خبردار کیا کہ اگر اس مرض کی بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو بانجھ پن، حمل کے دوران پیچیدگیاں، انسولین کی مزاحمت، شوگر ٹائپ دو اور بعد کی عمر میں دل کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر ارشد چوہان نے کہا کہ پی سی او ایس کو صرف تولیدی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک عمر بھر رہنے والی میٹابولک بیماری کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی علامات اکثر بلوغت کے فوراً بعد شروع ہو جاتی ہیں مگر انہیں معمول سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جس کے باعث خواتین عموماً اس وقت ڈاکٹر کے پاس آتی ہیں جب بانجھ پن یا سنگین پیچیدگیاں سامنے آ چکی ہوتی ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فارمیوو کے کمرشل ڈائریکٹر منصور خان نے کہا کہ پاکستان کا صحت کا نظام صرف علاج پر توجہ دے کر بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک اپنی مجموعی قومی پیداوار کا صرف معمولی حصہ صحت پر خرچ کرتا ہے جبکہ علاج کے اخراجات کا بڑا بوجھ براہ راست عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق بیماریوں سے بچاؤ اور بروقت تشخیص پر مبنی آگاہی مہمات کے ذریعے نہ صرف خاندانوں پر معاشی دباؤ کم کیا جا سکتا ہے بلکہ مجموعی طور پر صحت کے نظام پر پڑنے والا بوجھ بھی کم ہو سکتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر روبینہ سہیل نے کہا کہ پی سی او ایس پاکستانی خواتین پر شدید ذہنی اور سماجی دباؤ بھی ڈالتا ہے، خاص طور پر شادی شدہ خواتین کو اولاد کے حوالے سے معاشرتی دباؤ اور طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق اس بیماری سے وابستہ ذہنی دباؤ، بے چینی اور ڈپریشن جیسے مسائل عام ہیں مگر اکثر پہچانے نہیں جاتے۔
پروفیسر ڈاکٹر شمسہ حمید نے بتایا کہ طرزِ زندگی میں تبدیلیاں، جسمانی سرگرمی کی کمی، غیر صحت بخش غذا، موٹاپے میں اضافہ اور مسلسل ذہنی دباؤ پاکستان میں پی سی او ایس کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات بن رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ابتدائی اسکریننگ، وزن پر قابو، غذائی مشاورت اور بروقت طبی علاج کے ذریعے اس مرض کی پیچیدگیوں کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر شمیلہ اعجاز منیر نے کہا کہ مریضات ہی نہیں بلکہ ابتدائی سطح پر کام کرنے والے کئی معالجین میں بھی پی سی او ایس کے حوالے سے آگاہی ناکافی ہے۔ انہوں نے مسلسل طبی تربیت اور ذمہ دار اداروں کے ساتھ اشتراک کو ضروری قرار دیا تاکہ خواتین کی صحت سے متعلق مسائل کا سائنسی بنیادوں پر بہتر انتظام ممکن ہو سکے۔
اس سیمینار کی میزبانی سدرہ اقبال نے کی، جنہوں نے شرکا کے ساتھ بیماری کی ابتدائی علامات، عام غلط فہمیوں اور غیر مستند معلومات پر انحصار کرنے کے بجائے مستند طبی مشورہ لینے کی اہمیت پر زور دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ پی سی او ایس پروفیسر ڈاکٹر نے کہا کہ
پڑھیں:
قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
سائنس دانوں نے پہلی بار قاتل وہیل (اورکا) کے ایک ایسے غیرمعمولی رویے کا مشاہدہ کیا ہے جس میں وہ مردہ سن فش کو زور دار ٹکر مار کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاکھوں سال پرانا وہیل مچھلیوں کا وسیع و عریض قبرستان دریافت، سائنسدان حیران
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق محققین بتاتے ہیں کہ یہ عمل یا تو خوراک کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے یا پھر ممکن ہے کہ اورکا محض تفریح کے لیے ایسا کرتی ہوں۔
امریکی غیر سرکاری تنظیم ’بینیتھ دی ویوز‘ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اورکا وہیل سن فش کی دم کو پکڑے ہوئے ہے جبکہ دوسری پوری طاقت کے ساتھ اس پر حملہ کرتی ہے جس کے نتیجے میں مچھلی کے ٹکڑے بکھر جاتے ہیں۔
محقق کیتھرین آئرس کے مطابق یہ سن فش پہلے ہی مردہ تھی اس لیے یہ شکار کرنے کا عمل نہیں تھا۔
Killer whales: orcas blow fish to bits, study finds.
Video from US-based NGO Beneath The Waves shows an orca holding the tail of a sunfish, while another whale charges with full force into the already dead fish, which explodes into pieces – possibly an attempt to turn the fish… pic.twitter.com/ZK4ZUnSzMH
— AFP News Agency (@AFP) July 23, 2026
انہوں نے بتایا کہ ممکن ہے اورکا وہیل مچھلی کو کھانے میں آسانی کے لیے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر رہی ہوں تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ وہ صرف کھیل رہی ہوں، کیونکہ اورکا وہیل اپنے شکار کے ساتھ کھیلنے کے لیے مشہور ہیں۔
کیتھرین آئرس نے کہا کہ اورکا اکثر اپنے شکار کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اپنے گروہ کے دیگر ارکان خصوصاً بچوں اور کم عمر وہیلوں کے ساتھ بھی بانٹتی ہیں۔
یہ غیرمعمولی مناظر سال 2024 اور سال 2025 کے دوران خلیج کیلیفورنیا میں دو مختلف مواقع پر ریکارڈ کیے گئے جن کی تفصیلات سائنسی جریدے فرنٹیئرز اِن ایتھولوجی میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ میں پیش کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیے: جرمنی میں ساحل پر پھنسے ہمپ بیک وہیل کو بچانے کی دوڑ، ریسکیو آپریشن جاری
تنظیم اوشن کیئر کے ڈائریکٹر برائے سائنس مارک پیٹر سیمنڈز نے اس رویے کو انسانوں کی اجتماعی دعوتوں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے لوگ کھانے کے دوران سماجی روابط بھی قائم رکھتے ہیں اسی طرح اورکا وہیلوں میں بھی خوراک بانٹنے کا عمل سماجی تعلقات کا حصہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شاید یہ اسی طرح ہو جیسے کسی رسمی دعوت میں میزبان گوشت کاٹ کر دوسروں میں تقسیم کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اورکا وہیل دنیا کے ذہین ترین سمندری شکاریوں میں شمار ہوتی ہیں اور شکار کے لیے نہایت پیچیدہ حکمت عملیاں استعمال کرتی ہیں۔
اس سے قبل بھی انہیں برف کے بڑے ٹکڑوں پر موجود سیل مچھلیوں کو گرانے کے لیے اجتماعی طور پر لہریں پیدا کرتے دیکھا جا چکا ہے تاکہ انہیں آسانی سے شکار کیا جا سکے۔
تحقیقی رپورٹس میں یہ بھی سامنے آ چکا ہے کہ بعض اورکا وہیل مردہ سالمن مچھلیوں کو اپنے سروں پر رکھتی ہیں تاہم اس عجیب رویے کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہو سکی۔
مزید پڑھیں: ممبئی ساحل پر پھنسا 26 فٹ لمبا وہیل کا بچہ ریسکیو کے باوجود دم توڑ گیا
گزشتہ سال شائع ہونے والی ایک اور تحقیق کے مطابق سیلش سی میں رہنے والی شدید خطرے سے دوچار اورکا وہیلوں کو سمندری گھاس کے ٹکڑے توڑ کر ایک دوسرے کی صفائی اور جسم رگڑنے کے لیے بطور آلے استعمال کرتے بھی دیکھا گیا تھا۔
ویسٹرن آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی سائنس دان ریبی کا ویلارڈ جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں نے کہا کہ یہ مشاہدہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ اورکا وہیل انتہائی ذہین مخلوق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امید ہے اس طرح کی تحقیقات لوگوں میں ان طاقتور سمندری شکاریوں کے لیے مزید احترام پیدا کریں گی۔
تحقیق کے مطابق سن فش دنیا کی سب سے بڑی ہڈی والی مچھلیوں میں شمار ہوتی ہے جس کا وزن 2 ہزار کلوگرام تک ہو سکتا ہے۔ اس کا چپٹا جسم اور منفرد ساخت اسے دیگر مچھلیوں سے ممتاز بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستانی سمندر میں وہیل اور ڈولفن کی 27 اقسام کی موجودگی خوش آئند ہے، وفاقی وزیر بحری امور
ماہرین نے واضح کیا کہ سن فش عام طور پر اس طرح ٹکڑوں میں نہیں بکھرتی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اورکا وہیل کی ٹکر غیرمعمولی طور پر طاقتور تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اورکا وہیل دلچسپ تحقیق سن فش قاتل وہیل کلر وہیل وہیل پر تحقیق وہیل کی سن فش کو ٹکر