نارا کینال سے فراہم کیا جانے والا پانی مضر صحت ہونیکا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میرپورخاص (جسارت نیوز)نارا کینال کی مختلف شاخوں کے ذریعے واٹر سپلائی اسکیموں کو فراہم کیا جانے والا پانی انسانی صحت کے لیے مضر ثابت ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ جمڑاؤ کینال میں موجود پانی کا ٹی ڈی ایس لیول 350 سے زائد پایا گیا ہے۔میرپورخاص میں پینے کے پانی کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے جس کے باعث عوام شدید پریشانی کا شکار ہیں جمڑاؤ کینال میں پانی موجود ہے اور آج (کل) سیٹلائٹ ٹاؤن واٹر سپلائی اسکیم کے لیے جرواری شاخ میں پانی چھوڑا جائے گا یہ بات ایکسیئن معاذ آرائیں نے بتائی دوسری جانب یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ جمڑاؤ کینال میں چھوڑا گیا پانی انسانی جانوں کے لیے نقصان دہ ہے ٹی ڈی ایس ٹیسٹ کے بعد واضح ہوا کہ موجودہ پانی پینے کے قابل نہیں اسی لیے چند دن انتظار کے بعد یہ پانی تالابوں میں ذخیرہ کیا جائے گا یہ بات جواد احمد، واٹر سپلائی انچارج نے بتائی۔تفصیلات کے مطابق میرپورخاص شہر کی 12 لاکھ سے زائد آبادی کو پینے کا پانی فراہم کرنے والی واٹر سپلائی اسکیموں کو نارا کینال کی مختلف شاخوں سے آنے والا پانی انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر پایا گیا ہے سالانہ وارہ بندی کے بعد جب واٹر سپلائی اسکیموں کے لیے فراہم کیے جانے والے پانی کے نمونے ٹیسٹ کیے گئے تو معلوم ہوا کہ پانی کا ٹی ڈی ایس لیول 350 سے زیادہ ہے جو انسانی جانوں کے لیے نہایت خطرناک ہے۔پینے کے پانی کے ٹی ڈی ایس معیار کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ عالمی ادار? صحت (WHO) کے مطابق دریاؤں کے پانی میں ٹی ڈی ایس لیول 50 سے 250 تک محفوظ سمجھا جاتا ہے، جبکہ 250 سے زیادہ لیول انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے زیر زمین پانی (کنوؤں کا پانی) کے لیے ٹی ڈی ایس لیول 50 سے 300 محفوظ، 300 سے 500 قابلِ قبول جبکہ 500 سے زائد انتہائی خطرناک تصور کیا جاتا ہے ذرائع کے مطابق میرپورخاص کے چند علاقوں کے علاوہ شہر کے بیشتر علاقوں میں زیر زمین پانی کھارا ہے اور اس کا ٹی ڈی ایس لیول 550 سے 700 تک ہے جو انسانی صحت کے لیے شدید نقصان دہ ہے تاہم پانی کی قلت کے باعث شہری زیر زمین پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جس کے نتیجے میں جگر سمیت مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔سالانہ وارہ بندی کی وجہ سے میرپورخاص شہر کو پینے کا پانی فراہم کرنے والی واٹر سپلائی اسکیموں میں پانی کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے جس کے باعث شہر کے 75 فیصد علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے اور شہر میں پانی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔شہریوں نے میئر میرپورخاص سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے شاخوں میں پانی کی صورتحال کے حوالے سے رابطہ کرنے پر جمڑاؤ کینال کے ایکسیئن معاذ آرائیں نے بتایا کہ وارہ بندی کے بعد جمڑاؤ کینال میں پانی پہنچ چکا ہے اور شہر کے 50 فیصد سے زائد علاقوں کو پانی فراہم کرنے والی سیٹلائٹ ٹاؤن واٹر سپلائی اسکیم کو آج (کل) سے پانی کی فراہمی شروع کر دی جائے گی جس سے پانی کی قلت ختم ہو جائے گی۔دوسری طرف واٹر سپلائی اسکیم کے انچارج جواد احمد نے بتایا کہ جمڑاؤ کینال میں پانی آ چکا ہے لیکن واٹر سپلائی اسکیم کو پانی فراہم کرنے والی جرواری شاخ میں تاحال پانی کا اخراج نہیں ہو سکا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پانی فراہم کرنے والی واٹر سپلائی اسکیموں واٹر سپلائی اسکیم انسانی صحت کے لیے پینے کے پانی کینال میں میں پانی پانی کا پانی کی ہے اور پانی ا کے بعد گیا ہے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔