وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل قومی اتفاق رائے پر مبنی کشمیر پالیسی طے کریں‘ لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260205-08-16
لاہور(نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ آج 5 فروری یکجہتی کشمیر قومی، ایمانی اور کشمیریوں سے والہانہ عقیدت کے جذبوں کے ساتھ منایا جائے گا۔ کشمیر اور فلسطین میں یہود و ہنود کے ظالمانہ، فاسقانہ کردار کے خلاف پاکستان کے مسلم اور غیرمسلم کشمیریوں اور فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کریں گے۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مضبوط، مؤثر، فعال اور قومی اتفاقِ رائے پر مبنی کشمیر پالیسی طے کریں۔ ملک میں سیاسی استحکام ہی تمام بحرانوں کا علاج ہے،پاکستان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے جال میں نہ الجھے بلکہ عالم اسلام کے اتحاد کے لیے کام کرے۔ ترکیے میں امریکا، ایران مذاکرات میں پاکستان کی شرکت اچھا اقدام ہوگا۔ ایران کے حالات کی خرابی سے براہِ راست پاکستان متاثر ہوتا ہے، امریکاایران مذاکرات میں شامل مسلم ممالک کے قائدین پاکستان، ایران اور افغانستان کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے بھی کردار ادا کریں۔ افغانستان کے حالات کی خرابی کے لیے امریکا، بھارت اور اسرائیل اسٹریٹیجک بنیادوں پر ایک پیج پر ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد، فیصل آباد اور لاہور میں سیاسی مشاورت میںخطاب کرتے ہوئے کیا۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ کراچی میں عوام کے فقیدالمثال احتجاج نے سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ناجائز قبضہ، سیاسی تسلّط کے خاتمے کا بگل بجادیا ہے۔ کراچی کو بحرانوں سے نجات دِلانے کے لیے پی ٹی آئی، جے یو آئی اور مسلم لیگ کے ممبرز میٹروپولیٹن کارپوریشن ناجائز مسلط میئر کراچی کی نااہلی، ناکامی عوام دشمنی کی چارج شیٹ پر مبنی جماعت اسلامی کے عدم اعتماد کی تحریک کا ساتھ دیں۔ بلاول زرداری کا کراچی پر جیالا میئر لانے کا خواب اور ناجائز بنیادوں پر میئر مسلط کرنے کا اقدام کراچی کے لیے عذاب بن گیا ہے۔ کراچی کے عوام حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں متحد اور پرامید ہیں۔لیاقت بلوچ نے لاہور میں بلوچستان کے تاجر رہنماؤں، زیرتعلیم طلبہ و طالبات کے وفد اور بلوچ کونسل کے رہنماؤں سے ملاقات میں کہا کہ ملک پر مسلط ظلم کے نظام سے ملک کے عوام تنگ اور بیزار ہیں۔ غربت، بیروزگاری، بدامنی، انسانی حقوق کی پامالی سے پورے ملک کے عوام کے مشترکہ مسائل ہیں۔ سیاسی جمہوری پرامن مزاحمت عوام کا آئینی جمہوری حق ہے۔ ریاست کے خلاف ہتھیار اْٹھانا، پاکستان دشمن قوتوں سے توقعات رکھنا خود بلوچستان کے عوام کے لیے بڑی مشکلات کا باعث بن گیا ہے۔ جماعت اسلامی کی ’’بدل دو نظام تحریک‘‘ کا بلوچستان کے نوجوان، طلبہ و طالبات حصہ بن جائیں، پرامن عوامی جمہوری سیاسی مزاحمت ہی بلوچستان کے عوام کے حقوق کی ضامن ہے۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں امن کی بحالی، بیرونی مداخلت کے سدّباب کے لیے قومی اتفاقِ رائے سے قومی ایکشن پلان بنائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بلوچستان کے لیاقت بلوچ عوام کے کے عوام کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔