لاہور بسنت، کروڑوں روپے کی ڈور اور پتنگیں کراچی سے لاہور روانہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
لاہور میں بسنت کی تیاریاں عروج پر ہیں، اور اس بار دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ لاہور میں پتنگوں اور ڈور کی قلت کے باعث کراچی سے بڑے پیمانے پر سامان منگوایا جا رہا ہے۔
لاہور میں 19 سال بعد بسنت کی مشروط اجازت (6 سے 8 فروری) ملنے پر شہر میں پتنگ بازی کا جنون سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ طویل پابندی کے باعث مقامی سطح پر پتنگ سازی کی صنعت موجودہ طلب پوری نہیں کر پا رہی۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے کراچی سے پتنگوں کی بڑی کھیپ ٹرینوں اور بسوں کے ذریعے لاہور پہنچائی جا رہی ہیں۔ طلب زیادہ اور رسد کم ہونے کی وجہ سے قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
کراچی کے ایک شہری اسد کا کہنا ہے کہ وہ لاہور میں موجود اپنے دوست کے لیے کراچی کے رینبو سینٹر میں ڈور خریدنے آئے ہیں۔ ان کے دوست نے ان سے ڈور کی فرمائش کی تھی جو لاہور میں نہیں مل رہی، اور اگر مل رہی ہے تو قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ اسد نے بتایا کہ اب کراچی میں بھی مال کم ہو چکا ہے اور 25 ہزار روپے کی ڈور کے لیے انہوں نے 50 ہزار روپے ادا کیے۔
لاہور کے مقابلے میں پتنگ کے ریٹ کراچی میں کم ہیں، لیکن ڈیمانڈ کے مطابق پتنگیں مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ کافی عرصہ بعد ہمارا کاروبار چل رہا ہے، لیکن ہم اس کے لیے مکمل تیار نہیں تھے۔ اگلے سال ہم تیاری کرکے بیٹھیں گے تاکہ زیادہ منافع کما سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔