پاکستان ہر فورم پر کشمیر کا مقدمہ لڑتا رہے گا، سردار محمد یوسف
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
پاکستان ہر فورم پر کشمیر کا مقدمہ لڑتا رہے گا، سردار محمد یوسف WhatsAppFacebookTwitter 0 5 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ یومِ یکجہتی کشمیر محض ایک دن نہیں بلکہ مظلوم کشمیری عوام کے ساتھ عزم کی تجدید اور یاد دہانی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم مسلمان بھائیوں اور بہنوں کی جدوجہدِ آزادی کو پاکستان کی مکمل اور غیر مشروط حمایت حاصل ہے۔ سردار محمد یوسف کے مطابق 1947 سے جاری تنازعہ کشمیر میں بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مسلسل نظرانداز کرتے ہوئے کشمیر پر قابض ہے، جس کے نتیجے میں اب تک لاکھوں کشمیری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔
وفاقی وزیر نے بھارتی قابض افواج کی جانب سے پیلٹ گنز کے استعمال، غیر قانونی حراستوں، جبری گمشدگیوں، تشدد، جنسی زیادتیوں اور طویل کرفیو جیسے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
سردار محمد یوسف نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر کے مسئلے کا پرامن اور منصفانہ حل یقینی بنائیں، کیونکہ اقوام متحدہ کی قراردادیں کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت کی ضمانت دیتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے حالیہ برسوں میں او آئی سی، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور دیگر عالمی فورمز پر کشمیر کے مقدمے کو مضبوطی سے اجاگر کیا ہے اور پاکستان آئندہ بھی کشمیری عوام کی اخلاقی، سفارتی، سیاسی اور انسانی امداد کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں مختلف مذاہب اور مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد یکجہتی کے ساتھ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں شریک ہیں اور آج کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اتحاد ہی ہماری اصل طاقت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر ملک بھر میں ریلیاں، سیمینارز، دعائیہ تقریبات اور آگاہی مہمات کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔
آخر میں سردار محمد یوسف نے امید ظاہر کی کہ وہ دن دور نہیں جب کشمیر آزادی حاصل کرے گا، ظلم کا خاتمہ ہوگا اور کشمیری عوام اپنی خواہشات کے مطابق مستقبل کا فیصلہ کر سکیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد میں سری لنکا کے یومِ آزادی کی 78ویں سالگرہ کی تقریب، ہائی کمیشن میں پروقار تقریب کا انعقاد اسلام آباد میں سری لنکا کے یومِ آزادی کی 78ویں سالگرہ کی تقریب، ہائی کمیشن میں پروقار تقریب کا انعقاد کَیس لاہور میں مصنوعی ذہانت کے بچوں اور نوجوانوں پر اثرات پر اہم راؤنڈ ٹیبل مباحثہ بارسلونا قونصلیٹ میں عوامی خدمت کی نئی تاریخ رقم قونصل جنرل مراد وزیر علی کی مخلص قیادت اوورسیز پاکستانیوں کے لیے امید کی کرن لکی مروت، نامعلوم افراد نے گیس پائپ لائن کو دھماکا خیز مواد سے تباہ کر دیا جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، دو نومولود بچوں سمیت 24 فلسطینی شہید یومِ یکجہتی کشمیر، افواج پاکستان کا کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سردار محمد یوسف یکجہتی کشمیر کشمیری عوام اقوام متحدہ کشمیر کے
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔