ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: بھارت کیخلاف میچ کا بائیکاٹ، پاکستان کا سب سے بڑا حریف کون ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں بھارت کیخلاف میچ کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد اب پاکستان کا سب سے بڑا حریف کون ہوگا؟
شائقین کرکٹ پاک بھارت ٹاکرا دیکھنے کے منتظر مگر آئی سی سی کے موجودہ بھارتی سربراہ کی کھیلوں میں گندی سیاست نے کھیل کو داغدار کردیا۔
پاکستان نے بنگلادیش کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر احتجاجاً بھارت کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کردیا ہے۔
پاکستان ٹیم کے سب سے بڑے حریف سمجھے جانے والے بھارت سے میچ نہ ہونے کی صورت میں پاکستان کو نیدرلینڈز، امریکا اور نمیبیا کے خلاف میچز میں تقریباً لازمی فتح درکار ہوگی۔
تاہم ان تینوں ٹیموں سے زیادہ پاکستانی ٹیم کو بارش سے خطرہ ہے۔
پاکستان کے تمام میچز سری لنکا میں شیڈول ہیں اور وہاں ہونے والی غیر متوقع بارشیں پاکستان کے سفر میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
سری لنکا کے محکمہ موسمیات نے پاکستان کے افتتاحی میچ میں بھی بارش کی پیشگوئی کر رکھی ہے۔
اگر کسی بھی میچ میں کھیل مکمل نہ ہو سکا تو پاکستان نہ صرف پوائنٹس ٹیبل میں پیچھے رہ سکتا ہے بلکہ نیٹ رن ریٹ میں بھی دیگر ٹیموں کے مقابلے کمزور پوزیشن میں چلا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔