مظفرآباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکیسز سے دہشت گردی کرا رہا ہے، عظیم قربانیوں کے نتیجے میں جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی۔
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان عوام اور حکومت کی جانب سے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے حاضر ہوا ہوں، سابق صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چودھری کی وفات پر غمزدہ ہیں۔

اس موقع پر مرحوم بیرسٹر سلطان محمود چودھری کے بلندی درجات کیلئے دعا بھی کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ جدوجہد آزادی کشمیر کے ہر قائد اور شہری کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں، کشمیری اپنے بچے تک قربان کر سکتے ہیں مگر حق آزادی سے دستبردار نہیں ہوسکتے، بابائے قوم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا، یہ ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل کشمیریوں کی امنگوں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد سے ہی ممکن ہے، کشمیریوں کا حقوق خودارادیت کا مطالبہ پورا ہونے تک پاکستان اپنی حمایت جاری رکھے گا، مقبوضہ وادی کے کونے کونے سے کشمیر بنے گا پاکستان کی آواز گونج رہی ہے، عظیم قربانیوں کے نتیجے میں جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی۔

عسکری اور سفارتی محاذ پر بھارتی جھوٹ کا بیانیہ دفن ہوگیا

شہباز شریف نے کہا کہ معرکہ حق میں پاکستان نے بھارت کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا، اللہ کے کرم، قوم کی دعاؤں اور پاک فوج کی پیشہ ورانہ کارکردگی کی بدولت شاندار فتح نصیب ہوئی، فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کو دی گئی شکست ان کی نسلیں بھی نہیں بھولیں گی، معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں اجاگر ہوا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عسکری اور سفارتی محاذ پر بھارتی جھوٹ کا بیانیہ دفن ہوگیا، بھارت ذلت آمیز شکست کے بعد اپنی پراکسی کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے، خارجہ محاذ پر بھی پاکستان نے زبردست کامیابیاں حاصل کی ہیں، مسئلہ کشمیر کامیابی سے اجاگر کرنے پر نائب وزیراعظم کی کوششیں لائق تحسین ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے جارحانہ، توسیع و تسلط پسندانہ عزائم ترک کرنے تک خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا، ہماری بہادر افواج بھارتی کٹھ پتلیوں کا وہی حشر کریں گے جو معرکہ حق میں بھارتی طیاروں کا ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطین اور کشمیر کے عوام کو ان کی مرضی کے مطابق جینے کا حق دینا ضروری ہے، پاکستان نے اہم اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر غزہ میں قیام امن کیلئے عملی اقدامات کئے، ہم امن چاہتے ہیں لیکن یہ امن برابری کی سطح پر قائم ہو سکتا ہے، آزاد کشمیر حکومت کے ساتھ مل کر علاقے میں انفراسٹرکچر بہتر بنانے کا عمل جاری رکھیں گے۔

مہاجرین کا وظیفہ بڑھا کر 6 ہزار روپے ماہانہ کرنے کا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف نے مہاجرین کا وظیفہ 3500 سے بڑھا کر 6 ہزار روپے ماہانہ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ قائد نواز شریف کے وژن کے مطابق کشمیر کاز اور قومی ترقی کے اہداف حاصل کریں گے، کشمیر نوجوانوں کو تکنیکی تعلیم کیلئے دانش یونیورسٹی کا سب کیمپس مظفرآباد میں قائم کیا جائے گا، مظفر آباد میں اسلام آباد کی طرز کا خدمت سیٹر بھی بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال 2 ہزار 96 کشمیر طلبہ کو لیپ ٹاپس دیئے گئے، مزید 1700 کشمیری طلبہ کو لیپ ٹاپ فراہم کریں گے، ایجوکیشن بینوولنٹ فنڈ کے ذریعے کشمیری نوجوان دنیا کی بہترین جامعات میں تعلیم حاصل کریں گے۔

وزیراعظم نے آزاد کشمیر میں سکولوں کی چھتوں کی تعمیر ومرمت کیلئے ایک ارب روپے فنڈز دینے کا بھی اعلان کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ معرکہ حق میں نے کہا کہ کشمیر کا کریں گے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار