افغانستان میں دہشت گرد قوتوں سے محتاط رہا جائے، چینی نما ئندہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
افغانستان میں دہشت گرد قوتوں سے محتاط رہا جائے، چینی نما ئندہ WhatsAppFacebookTwitter 0 5 February, 2026 سب نیوز
اقوام متحدہ :اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے انسداد دہشت گردی پر ایک کھلا اجلاس منعقد کیا۔جمعرات کے روز اس موقع پر چینی نمائندے نے مطالبہ کیا کہ افغانستان جیسے خطوں میں انسداد دہشت گردی کی صورتحال کو اہمیت دی جائے۔ اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل نمائندے سن لے نے اپنی تقریر میں کہا کہ اس وقت عالمی دہشت گردی کا خطرہ مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔
عالمی برادری کو چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی برقرار رکھی جائے، منتخب انسداد دہشت گردی اور دوہرے معیار کی مخالفت کرتے ہوئے یکجہتی اور تعاون کو مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ داعش، القاعدہ، اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ جیسی دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں سرگرم عمل ہیں، جو افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک کی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ ہیں۔
چین نے افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کے اندر انسداد دہشت گردی کی صورت حال کو انتہائی اہمیت دیتے ہوئے دہشت گرد قوتوں پر سختی سے کاری ضرب لگانے اور انہیں ختم کرنے کے لیے ٹھوس اور موثر اقدامات اٹھائے اور افغانستان کو دوبارہ دہشت گرد تنظیموں کا مرکز بننے سے روکے۔ سن لے نے شام کی عبوری حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی انسداد دہشت گردی کی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے پورا کرے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکشمیر بنے گا پاکستان، بھارت جس زبان میں بات کرے گا اسی میں جواب دیا جائے گا: وزیراعظم جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، دو نومولود بچوں سمیت 24 فلسطینی شہید ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں ،امید ہے کامیاب ہوں گے،ٹرمپ ایپسٹین اسکینڈل، تازہ دستاویز سامنے آنے پر اینڈریوکو برطانیہ کے شاہی لاج سے نکال دیاگیا لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کو قتل کر دیا گیا آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کے بعد امید ہے ایران سے مذاکرات کامیاب ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی فوج میں پہلی بار ایک مسلم خاتون افسر کو عربی ترجمان مقررCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔