بسنت کی تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ گئیں، لاہور دلہن کی طرح سج گیا، ہر طرف رنگوں کی بہار
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
لاہور میں بسنت کی تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ گئیں ،شہریوں کا جوش وخروش دیدنی ،گلیوں، بازاروں، سڑکوں اور گھروں کو بسنتی رنگوں سے سجادیا گیا۔ پنجاب حکومت نے 6، 7 اور 8 فروری کو لاہور میں بسنت کا اعلان کر رکھا ہے اور اس حوالے سے عوام میں بے حد جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔ لاہور میں بسنت کے موقع پر کھانوں کے آرڈر بُک ہونے لگے ، ہوٹلوں میں بُکنگ بڑھنے لگی بیرونِ ملک سے لوگ بسنت منانے لاہور پہنچنے لگے۔ لاہور کے مشہور ذائقوں کا مزہ چھکنے کے لیے پکوان سینٹرز کو ڈھیروں آرڈرز مل چکے ہیں۔ کنا، ہریسہ، مرغ چنا، کڑاہی، نہاری، پائے، حلیم اور حلوہ پوری ، ہر پکوان سینٹر کا روزگار چمک اٹھا۔ ماہرین کے مطابق بسنت کے 3 دنوں میں فوڈ انڈسٹری اور ہوٹل انڈسٹری میں اربوں روپے کا کاروبار متوقع ہے۔ دوسری جانب بسنت کو محفوط بنانے کے لیے انتظامیہ بھی متحرک ہے،پنجاب حکومت نے ایس او پيز پر سختی سے عمل کا حکم دیا ہے۔ چیف ٹریفک آفیسر لاہور نے کہا کہ موٹرسائیکلوں پر سیفٹی راڈز لگانے سے لے کر ڈرون سرویلیئنس تک مختلف اقدامات کیےجا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔