9 سالہ بچے کو خطرناک سوشل میڈیا ٹرینڈ مہنگا پڑگیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا میں 9 سالہ کیلیب چابولا ایک خطرناک سوشل میڈیا ٹرینڈ کے دوران بری طرح زخمی ہو گیا، جب اس نے ٹک ٹاک پر لائکس حاصل کرنے کے لیے ایک پلاسٹک کا سینسری کھلونا مائیکروویو میں گرم کیا۔ ابتدائی طور پر کیلیب کی والدہ نے سمجھا کہ وہ اپنا ناشتہ تیار کر رہا ہے، تاہم حقیقت یہ تھی کہ کیلیب ایک چھوٹے کھلونے کو گرم کر رہا تھا، جس میں جلنے کا شدید خطرہ موجود تھا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جب کیلیب نے مائیکروویو کھولا تو کھلونا پھٹ گیا اور جیل نما مواد اس کے چہرے اور ہاتھوں پر چھلک گیا، اس کے نتیجے میں کیلیب کو سیکنڈ ڈگری جلنے کے زخم آئے اور اس کی آنکھ مکمل طور پر سوج گئی۔ فوراً والدہ نے اسے برن سینٹر منتقل کیا، جہاں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔
برن سینٹر کی نمائندہ کیلی میک ایلیگوٹ نے کہا کہ جیل نما مواد انتہائی چپچپا اور دیر تک گرم رہنے والا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے زخمی ہونے کا عمل تیز اور شدید ہو گیا۔
کیلی میک ایلیگوٹ نے والدین کو خبردار کیا کہ ایسے کھلونوں کو مائیکروویو یا کسی بھی گرم کرنے کے طریقے سے استعمال نہ کریں، کیونکہ یہ بچوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، کیلیب خوش قسمت ہے کہ اسے زیادہ سنگین زخم نہیں آئے، ورنہ یہ واقعہ زندگی کے لیے خطرناک بھی ثابت ہو سکتا تھا۔
ٹک ٹاک کے ترجمان نک اسمتھ نے اس واقعے پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پلیٹ فارم پر خطرناک سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرنے والے مواد کی اجازت نہیں ہے، کمپنی خودکار نظام کے ذریعے ایسی ویڈیوز کو ہٹا دیتی ہے اور گزشتہ سال کی تیسری سہ ماہی میں 99.
ماہرین تعلیم اور سائبر سیکیورٹی کے مطابق، سوشل میڈیا پر بچوں میں خطرناک ٹرینڈز کی ترویج ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، اور والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر خصوصی نظر رکھیں اور انہیں ایسے چیلنجز کے خطرات سے آگاہ کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔