data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ذرا تصور کریں ایک ایسا اسمارٹ فون جسے تقریباً ایک ہفتے تک چارج کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔

یہ کوئی خیال نہیں بلکہ حقیقت ہے، کیونکہ جرمن کمپنی پونکیٹ نے ایک ایسا اسمارٹ فون MC 03 متعارف کرایا ہے جس کی بیٹری لائف عام اسمارٹ فونز کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر ہے۔

عام طور پر بیشتر اسمارٹ فونز کی بیٹری بمشکل ایک یا دو دن چل پاتی ہے، تاہم MC 03 کو ایک بار چارج کرنے کے بعد 6 سے 7 دن تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ روایتی اسمارٹ فونز میں متعدد ایپس بیک گراؤنڈ میں مسلسل متحرک رہتی ہیں جو ڈیٹا اور توانائی استعمال کرتی رہتی ہیں، جبکہ MC 03 میں صارفین کی پرائیویسی کو ترجیح دی گئی ہے اور ایپس کے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے عمل پر مکمل کنٹرول فراہم کیا گیا ہے۔

اس فون میں بائی ڈیفالٹ ایپس کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہوتی، جس کے باعث بیک گراؤنڈ ڈیٹا اور غیر ضروری پاور استعمال ممکن نہیں رہتا۔

کمپنی کے مطابق فون کی بیٹری لائف غیر معمولی ہے، زیادہ استعمال کی صورت میں بھی یہ 4 سے 5 دن تک چلتی ہے جبکہ عام استعمال میں 6 سے 7 دن تک چارج کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ فون میں کسی غیر معمولی سائز کی بیٹری نہیں بلکہ دیگر اسمارٹ فونز جیسی ہی بیٹری استعمال کی گئی ہے۔

یہ فون اوپن سورس اینڈرائیڈ پراجیکٹ پر مبنی آپریٹنگ سسٹم AphyOS پر کام کرتا ہے، جس میں صارفین کی پرائیویسی کے تحفظ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

MC 03 میں 120 ہرٹز کا او ایل ای ڈی ڈسپلے دیا گیا ہے، بیٹری آسانی سے نکالی اور بدلی جا سکتی ہے، جبکہ فون کے بیک پر تین کیمرے موجود ہیں۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسمارٹ فونز اسمارٹ فون کی بیٹری

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف